قسط نمبر 2
ان کی چوت کا سوراخ رات کی چدائی کے بعد تھوڑا تھوڑا سوجا ہوا لگ رہا تھا، وہ اپنا سر اٹھا کر میرے اکڑے ہوئے لن میں جھٹکا لگتے ہوئے دیکھ کر اب دوسرے ہاتھ سے اپنی چوت کے دانے کو سہلانے لگی تھیں۔
کچھ دیر وہ یونہی یہ عمل کرتی رہیں پھر وہ مجھے اپنے دوسرے ہاتھ جس سے وہ اپنی پھدی کے دانے کو سہلا رہی تھیں اس ہاتھ سے مجھے اپنے اوپر آنے کا اشارہ کرنے لگیں۔
میں نے ان کو یاد دلاتے ہوئے کہا: ماموں؟
انہوں نے اپنا سر ناں میں ہلاتے ہوئے مجھے پھر سے اپنی طرف بلایا تو میں نے دروازے کی جانب دیکھا تو شاید انہیں مجھ پر غصہ آگیا وہ اٹھیں اور واش روم میں چلی گئیں۔
شاید ان کا موڈ میں نے خراب کردیا تھا۔ ان کے، میرے کمرے سے چلے جانے پر میں نے بھی واش روم کا رخ کیا۔ کچھ دیر کے بعد ہم دونوں کے درمیان خاموشی ہی برقرار رہی۔ ماموں صبح سویرے گھر سے جا چکے تھے۔ شاید وہ سامان لینے گئے تھے ۔میں اب مطمئن ہوچکا تھا لیکن ممانی اب مجھ سے تھوڑا تھوڑا
اکھڑی ہوئی محسوس ہوئیں۔
ہم ناشتہ کرچکے تھے، ناشتے کے برتن وہ دھو چکی تھی لیکن و ہ جان بوجھ کر میرے پاس نہیں آ رہی تھیں۔ ایسے ہی وقت ضائع کرتے کرتے دن کا وقت ہوگیا تھا۔ میں نے دکان کا بھی چکر لگایا جس پر مجھے معلوم ہوا کہ ماموں دکان پر نہیں آئے تھے بلکہ وہ دکان کا سامان لینے گئے ہوئے تھے۔ دکان پر کچھ دیر گزارنے کے بعد میرا دل اکتا گیا تو میں دکان بند کرکے گھر کی راہ لی۔
میں حسب معمول وقت سے پہلے گھر پہنچ چکا تھا لیکن میری نظر ممانی نسرین کی سہیلی رابعہ پڑ چکی تھی ۔ میں نے آج دن تک ممانی اور رابعہ کی باتیں چھپ کر نہیں سنی تھی۔
لیکن اس دن ناجانے کیسے میں نے ان دونوں سہیلیوں کی گفتگو ممانی کے کمرے کے دروازے پر کھڑے ہوکر سن لی۔
رابعہ: کام کا کیا بنا نسرین؟
نسرین ممانی: یار! کام نہیں ہو سکا۔
رابعہ جھنجھلاتے ہوئے بولی: تجھ سے ایک کام بھی ڈھنگ سے نہیں ہو پاتا
نسرین ممانی: مجھ سے یہ سب نہیں ہو گا
رابعہ نسرین ممانی کو سمجھاتے ہوئے: تجھے یہ سب کرنا ہوگا ۔
نسرین ممانی: میں بے بس ہوں رابعہ
رابعہ: تیری یہی بے بسی تجھے اب تک بانجھ رکھے ہوئے ہے
میرے کان اس بات پر کھڑے ہوچکے تھے پہلے تو مجھے تجسس تھا کہ آیا کہ ان دونوں کے درمیان کس موضوع پر گفتگو ہو رہی ہے۔
ممانی بولیں: میں اولاد کی خاطر کسی بھی غیر مرد کے نیچے لیٹ نہیں سکتی، کل کو وہ مجھے بلیک میل کر سکتا ہے۔ ویسے بھی ہم دونوں کے درمیان اب اولاد کو لے کر جھگڑا نہیں ہوتا۔ ہم نے اپنا فیصلہ خد ا پر چھوڑ دیا ہے
کچھ دیر کمرے میں خاموشی چھائی رہی پھر ایکدم سے مجھے ممانی نسرین کی سسکاری سننے کو ملی ، میرے لیے ممانی نسرین اور رابعہ کے متعلق ایسا کچھ سین ہوگا سوچنا تو دور ، متوقع بھی نہ تھا۔
پھر کچھ ہی دیر تک، یہ سسکاریاں تیز ہوتی چلی گئیں، ان سسکاریوں میں اب رابعہ کی بھی سسکاریاں شامل تھیں۔ میں نے سسکاریوں کو کم ہوتا ہوئے جب سنا تو میں نے بھی باہر کی راہ لی۔
رات کو جب ممانی نسرین میرے کمرے میں آئیں تو ان کے چہرے پر سکون نظر آ رہا تھا ، جو یقینا ً دن کے وقت رابعہ نے انہیں جنسی تسکین مہیا کرکے انہیں پرسکون کیا تھا۔
مجھے معلوم تھا کہ ممانی رات کو لازمی آئیں گی بے شک وہ صبح کے انکار کے بعد تھوڑا سا مجھ سے ناراض تھیں ۔ اسی لیے میں نے بیڈ پر لیٹنے سے پہلے اپنی شرٹ اور ٹروزر اتار کر صرف چادر اپنے بدن پر لے رکھی تھی۔
جیسے ہی انہوں نے میری چادر میرے جسم سے الگ کی ان کی آنکھوں میں سرخی تیرنے لگی ۔ ان کے چہرے کے تاثرات جیسے ہی تبدیل ہوئے ان کا ہاتھ خود بخود میرے اکڑے ہوئے لن پر پہنچ گیا۔
ان کے ہاتھوں میں قید ہوتے ہی میرے لن نے انگڑائی لی وہ مزید اکڑتے ہوئے ممانی کے ہاتھوں میں اوپر نیچے ہونے لگا ۔ممانی کے ہاتھوں اور جسم پر شاید تیل یا کوئی کریم لگی ہوئی تھی جس کی خوشبو کمرے کو معطر کرر ہی تھی۔
ان کے ہاتھ اس قدر نرم اور پھسلن زدہ محسوس ہو رہے تھے کہ مجھے ایسا لگنے لگا تھا کہ میں مزید کچھ دیر ممانی کے سامنے
ٹک نہ سکوں گا۔ شاید میرے چہرے کے تاثرات دیکھتے ہوئے ممانی نے مجھ پر ترس کھاتے ہوئے میرے لن پر مٹھ لگانا روک دیا ۔
انہوں نے میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے میرے جسم پر بیٹھنے لگیں۔ ممانی کا سارا وزن میرے پیٹھ پر تھا ۔ ممانی نے اپنے مموں سے کالے رنگ کی برا کو آہستگی سے اتارا اور خود مجھ پر جھکتےہوئے میرے ہونٹ کو چوم لیا۔
میں نے بھی ممانی کے کس کے رسپانس پر ان کے ہونٹوں کو چومنے لگا ہمارے ہونٹ ایک دوسرے کے ہونٹوں کو مسلسل چوم رہے تھے تب میں نے اپنے ہونٹ پر ممانی کی گیلی زبان محسوس کی ۔ میں نے بھی بخوشی ان کی زبان کو اپنے ہونٹوں پر چلنے دیا وہ اب باری باری میرے ہونٹ چوم رہی تھیں اور ساتھ ہی ساتھ اپنی زبان میرے ہونٹوں پر پھیرتے ہوئے مزہ لے رہی تھیں۔
میں نے بھی اب ان کی زبان کو اپنی زبان سے ٹچ کرنا شروع کردیا کیونکہ ان کی زبان اب میرے گیلے ہونٹوں سے اندر داخل ہونے کی کوشش کر رہی تھی جس کو میں نے زبان باہر نکال کر اپنی زبان کے ہمراہ اپنے منہ میں داخل ہونے دیا۔
جیسے ہی ہماری زبانیں آپس میں ملیں ممانی نے ایڈجسٹ ہوتے ہوئے میرے اکڑے ہوئے لن کو اپنی چوت میں گم کرلیا۔ ان کی چوت میں جیسے ہی میرا لن گم ہوا ان کا منہ کچھ لمحات کے لیے کھلا، میں نے ان کی زبان کو چوستے ہوئے ان کے پستانوں کو دبانے لگا تھا۔
آج ہماری پہلی چدائی کی نسبت ان کے آج مموں کا سائز کافی تبدیل ہوچکا تھا۔ وہ اب مسلسل میرے لن پر بیٹھے ہوئے اوپر نیچے ہونے کی کوشش کر رہی تھیں جبکہ ان کا پیٹ میرے پیٹ سے مسلسل رگڑ کھاتے ہوئے مجھے بھی محسور کن خوشبو میں معطر کیے جا رہا تھا۔
ممانی کچھ دیر میرے لن کو اپنی چوت میں لیے اوپر نیچے ہوتی رہی پھر ان کی کم ہوتی رفتار کی وجہ سے میں نے ان کو اپنے جسم سے لپٹائے ہوئے ان کو بیڈ پر لٹاتے ہوئے اپنے لن کو پہلے آہستگی سے اندر باہر کرنے لگا پھر آہستہ آہستہ میری رفتار میں بھی تیزی آنے لگی تھی۔ ممانی کی تیز ہوتی سانسیں مجھ پر یہی ظاہر کر رہی تھیں کہ اب وہ لذت کی آخری حدوں تک پہنچ چکی ہیں۔
جیسے ہی میرے لن نے ممانی کی چوت کی دیواروں کو زبردستی کھولتے ہوئے ان کی بچہ دانی کو ٹھوکر لگائی ان کے ہاتھوں کے ناخن میری پیٹھ پر نشان بنانے لگے۔ ان کی چوت پھڑپھڑاتے ہوئے اپنے پانی کو میرے لن پر چھوڑتے ہوئے میرے لن کو گیلا کرنے لگی تھی۔
میرا لن اب بھی مکمل ممانی کی چوت میں سمایا ہوا تھا۔ میں نے ان کو ریلیکس ہونے دیا جیسے ہی ان کی تیز سانسیں تھم گئیں ۔ میں نے ان کے ماتھے کو چومتے ہوئے بولا: مامی!
انہوں نے آنکھیں کھول کر مجھے دیکھا، میں پھر سے بولا: آپ نے رابعہ کو جھوٹ کیوں بولا؟
ممانی نے میری بات سن کر ایکدم سے شرما گئیں۔ میں ان کی بند آنکھیں دیکھ کر آہستہ آہستہ لن کو اندر باہر کرتے ہوئے ان کی کان پر کاٹتے ہوئے دوبارہ بولا: بتا بھی دیں
وہ میرے لن کو اپنی چوت میں محسوس کرکے عجیب سے انداز میں بولیں: وہ بھی اولاد چاہتی ہے ۔سائر بیٹا۔
میں نے ممانی کی بات سن کر اپنے دھکوں کی رفتار تیز کردی میں سمجھ چکا تھا کہ ممانی مجھے کسی دوسری عورت کے ساتھ نہیں دیکھ سکتی ۔ میرے ہر دھکے پر ممانی کے پستان ہلتے جس پر میں پہلے کی نسبت دوسرا دھکا مزید تیزی سے لگاتا جس پر ممانی کے چہرے کے تاثرات بدلنے لگے تھے۔
میں ان کے مموں کو چوستے ہوئے ایکد م سے بولا: کیا آپ مجھ سے بچے پیدا کریں گی؟
ممانی نے ایکدم سے میری گردن کو اپنے ہاتھوں سے تھام کر اپنی طرف کھینچا اور میرے کھلے لبوں کو اپنے ہونٹوں میں قید کرلیا۔ اب مجھے مزید سوال کرنے کی اجازت نہیں تھی۔
میں نے بھی خاموشی سے ان کے ہونٹ چوستے ہوئے اپنے لن کو تیزی سے ان کی پھدی میں اندر باہر کر رہا تھا۔ اس مرتبہ ممانی کا آرگیزم پہلے کی نسبت زیادہ جلدی ہوگیا۔
ممانی کی گرفت کمزور پڑی تو میں نے اپنا لن ان کی گیلی پھدی سے باہر نکالااور ان کی برا سے اپنےلن کوصاف کرتے ہوئےان کی طرف دیکھتے ہوئےبولا: اگر رابعہ مجھ سے اولاد چاہتی ہے تو آپ نے اس کو صاف انکار کیوں نہیں کیا؟
ممانی کچھ دیر خاموش ہی لیٹی رہی پھر کروٹ بدلتے ہوئے بولی: بیٹا! میں رابعہ کو برداشت نہیں کرسکوں گی
میں کچھ دیر پہلےایک پورن ویڈیومیں ایک پوز دیکھ رہا تھا میں نے وہی پوزاپنانے کا سوچا اور میں نے وہی کیا۔ میں ممانی کی ننگی کمر سے لپٹ چکا تھا سٹائل ڈوگی ہی تھا لیکن فرق بس اتنا تھا کہ ممانی پیٹ کے بل بیڈ پر لیٹی ہوئی تھیں جبکہ میں ان کی کمر پر اپنا سارا وزن ڈال کر اپنا لن ان کی گانڈ کی پھاڑیوں میں پھنسائے ہوئے ان کی گردن کو چومنے لگا۔
یہ طریقہ میں نے اسی ویڈیو میں دیکھا تھا جس کی وجہ سے لڑکے کا
لن لڑکی کی گانڈ میں اپنا راستہ بناتا ہے۔خیر کچھ دیر یونہی گزر گئی تو ممانی بولیں: بیٹا! تمہارا دل اب مجھ سے بھر چکا ہے؟
میں ان کے کان کی لو کو ہلکا سا کاٹتے ہوئے بولا: ہرگز نہیں
ممانی اپنی ٹانگوں کو تھوڑا سا کھولتے ہوئے بولی: مجھے ایسا لگا کہ جیسے اب تمہارا دل مجھ سے اکتا گیا ہے
میں نےاپنا وزن اپنے بازووں اور ٹانگوں پر واپس لاتے ہوئے ممانی سے کہا:ایسی کوئی بات نہیں ہے ۔ صبح والے واقعے کی وجہ ماموں ہیں۔ مجھے ایسا لگا کہ ماموں ہمیں اس حالت میں نہ دیکھ لیں۔
مامی نے مڑ کر میری طرف دیکھا ، میں ممانی کی کھلی ہوئی ٹانگوں میں ان کی چوت کے سوراخ کو اپنے ہاتھ سے ڈھونڈتے ہوئے بولا تھا۔ ممانی نے خود ہی اپنی گانڈ کی پھاڑیوں کو الگ کرتے ہوئے مجھے اپنی چوت کے سوراخ کا راستہ دکھاتے ہوئے بولیں: بیٹا!(میں ان کی آنکھوں کا مفہوم سمجھتے ہوئے اپنے لن کو ان کی پھدی کے سوراخ میں گھساتے ہوئے آہستہ ان کی کمر پر جھکنے لگا)آہ! ان کے لیے میری اب کوئی عزت نہیں ، اب وہ بس اولاد چاہتے ہیں چاہے وہ صحیح طریقہ ہو یا غلط طریقہ۔
میں اب اپنا سارا لن ممانی نسرین کی چوت میں گھسا چکا تھالیکن اس کے لیے ممانی کو کچھ نہ کچھ درد برداشت کرنا پڑا تھا۔ اس پوز میں میرا لن آسانی سے اندر نہیں گھسا میں اس بات سے بے خبر اپنے لن کو آہستہ آہستہ اندر باہر کر رہا تھا ممانی کے ہاتھوں میں بیڈ کی چادر تھی جبکہ انہوں نے اپنی درد بھری سسکاریوں کو روکنے کے لیے تکیے کو اپنے منہ میں لے رکھا تھا۔
جیسے ہی میرا لن رواں ہوا میں نے ممانی کی گردن کو چومتے ہوئے کہا: مجھے سمجھ نہیں آئی مامی! رابعہ کا شوہر ماموں کی دکان پر لمبی لمبی چھوڑتا ہے ایسا لگتا ہے کہ پورے گاوں کی عورتیں اس کی دیوانی ہیں جبکہ رابعہ کے بچے پیدا نہیں ہوئے
ممانی میری بات سن کر اپنا چہرہ میری طرف گھمایا تو مجھے ان کی آنکھوں سے نکلے آنسو صاف نظر آئے۔ میں نے اپنے لن کو ممانی کی چوت سے باہر نکال لیا۔
میں نے تشویش سے انہیں دیکھا تو وہ بولیں: کیا ہوا بیٹا؟
میں اپنے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے بولا: ایم سوری مامی! مجھے آپ کے ساتھ ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا
ممانی بھی اب اٹھ کر بیٹھ چکی تھی وہ میرے چہرے کو تھام کر بولیں: جو ہونا تھا وہ ہوچکا ہے بیٹا! اب تم اپنا کام مکمل کرو
میں نے انہیں عجیب نظروں سے دیکھا وہ دوبارہ بیڈپر لیٹ چکی تھیں ، میں ان کو کچھ دیر خاموشی سے دیکھتا رہا پھر میں ان کی کھلی ٹانگوں کے درمیان چلا گیا۔
مامی میری گانڈ کو مسلسل اپنی چوت میں دبانے لگیں تھی میرا ہر دھکا اسقدر جاندار ہوتا جس سے بیڈ بھی آواز کرنے لگا تھا۔ شاید بیڈ بھی کافی پرانا ہوچکا تھا ۔
اس مرتبہ بھی وہی کیفیت میرے لن پر محسوس ہونے لگی تھی میرا لن ممانی کی چوت کے کسی خاص حصے کو چھو کر واپس آتا تو مجھے واپس اپنے لن کو اسی مقام پر گھسانے کی جستجو ہوتی۔ میں نے اپنے آخری جھٹکے ممانی کے جسم سے لپٹے ہوئے ان کے ہونٹوں سے ہونٹ ملائے لگاتا چلا گیا۔
جیسے ہی میرے لن نے منی کی پھوار ممانی کی پھدی میں گرانا شروع کی ، ہم پرسکون ہوتے چلے گئے۔ ممانی مجھے اپنی ٹانگوں میں جھکڑے ہوئے بولیں: شادی سے پہلے رابعہ کی دوستی کسی سے تھی، وہ پہلی مرتبہ اسی کی وجہ سے پریگننٹ ہوئی لیکن قسمت کو کچھ اور منظور تھا سائر! اس کی پہلی اولاد بے احتیاطی کی وجہ سے مر گئی۔
میں توجہ سے ممانی کی بات سن رہا تھا، ممانی کچھ دیر خاموش رہیں، پھر وہ دوبارہ بولیں: اس نے اپنے پرانے جذبات دل میں دبا لیے وہ اپنے شوہر سے وفادار بنی رہی لیکن ان کے نصیب میں میری طرح اولاد نہیں تھی۔ پھر شادی کو دیکھتے دیکھتے سات سال گزر گئے۔ ان کے ہاں اولاد نہ ہوئی ۔ رابعہ کی ساس نے اس پر سوتن لانے کی بات چھیڑ دی تھی لیکن رابعہ نے روف کو اپنے قابو میں کر رکھا تھا اس لیے روف کی دوسری شادی نہ ہوسکی۔ لیکن!
ممانی اچانک خاموش ہوگئیں ، میں کچھ دیر ان کی طرف متوجہ رہا پھر میں بولا: لیکن کیا ؟
ممانی بولیں: لیکن اب، گاوں کی ایک لڑکی روف کو پسند آ گئی ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ رابعہ خود اسے بیاہ کر لائے یا بچے پیدا کرے۔
میں: ہوں! !! اچھا پھر رابعہ نے کیا سوچا
ممانی: وہ مجھے (دوسرے گاوں کا نام بتاتے ہوئے) وہاں لے جانا چاہتی تھی کیونکہ ہم دونوں ہی تھیں جنہیں خد ا نے بچوں جیسی نعمت سے محروم رکھا تھا۔
میں: وہاں جا کر آپ کو بچے ہوئے؟
(مجھے یاد تھا کہ ایک دو مرتبہ ممانی کہی گئی ہوئی تھیں اس کی حقیقت اب ممانی خود بتا رہی تھیں)
ممانی کے چہرے پر تاثرات تبدیل ہوئے: نہیں!
میں ممانی کے جسم سے الگ ہوئے بولا: بےمقصد کوشش تھی
ممانی نے مسکرا کر مجھے دیکھا: نہیں سائر بیٹا!۔
میں نے ان کی طرف دیکھا تو وہ بولی: وہاں جانا بے مقصد نہیں تھا۔ وہ بابا بہت پہنچے ہوئے ہیں۔ انہوں نے مجھے بتا دیا تھا کہ سائر کی ہی بدولت ہمارے گھر میں خوشیاں آئے گی۔
ممانی کی اشتیاق بھری آواز نے مجھے چونکا دیا تھا۔ میں نے ایک نظر ان کی طرف دیکھا پھر ان کے اشارے سے ان کی چوت کی جانب دیکھا جہاں سے ہم دونوں کی منی مکس ہوکر آہستہ آہستہ باہر نکل رہی تھی۔
وہ بولی: بیٹا !اسے دیکھ رہے ہو؟ (میں ان کی پھدی کو دیکھ رہا تھا) جب یہ کسی مرد سے جنسی تسکین حاصل کرلے تو اس کی یہی حالت ہوتی ہے تب ہی اولاد ہوتی ہے۔
میں خاموش ہی رہا وہ دوبارہ بولیں: بابا نے کہا تھا’’تمہاری زندگی میں کوئی آ چکا ہے جسے تم بے حد نفرت کی نگاہ سے دیکھتی ہو وہی بعد میں تمہارے لیے خوشیوں کا باعث بنے گا‘‘
ممانی: سائذ! اس وقت مجھے اس بابا کی بات سمجھ نہ آئی۔ میرے ذہن میں بار بار تمہارے ماموں ہی آتے جنہیں میں شادی کے بعد شدید نفرت سے دیکھتی تھی۔ مجھے تمہارا تصور بالکل بھی نہیں تھا۔
میں: پھر ایسا کیا ہوا کہ آپ کی توجہ میری طرف گئی؟
ممانی نے مسکراتے ہوئے کہا: تمہیں بخار تھا ، میں تمہیں جگانے گئی تو میں نے تمہارا(انہوں نے
میرے اکڑتے ہوئے لن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) دیکھا تو اچانک سے میرے ذہن میں بابا کی باتیں گردش کرنے لگیں۔
میں نے مسکرا کر ممانی کو دیکھا، وہ بولیں: پھر میں نے تصدیق کے لیے دوسری مرتبہ بابا کےپاس گئی تو انہوں نے بھی تمہارے خدوخال بتا کر میرے شک کو یقین میں تبدیل کردیا لیکن اس مرتبہ رابعہ میرے ساتھ تھی۔ اب اس کی جستجو تمہیں حاصل کرنے کی، مجھ سے زیادہ اس کی بڑھ چکی تھی۔
میں رابعہ کی ذکر ہوتے ہی ممانی کی طرف بڑھا، ممانی مجھے روکتے ہوئے بولیں: کیا ہوابیٹا؟ ۔
اتنے اتاولے کیوں ہو رہے ہو؟
میں نے مسکراتے ہوئے کہا: میرا تو دل آپ سے بھرتا نہیں ، آپ نے رابعہ کے متعلق بتا کر مجھے اتاولا کردیا ہے۔ پھر اس دن آپ کے ساتھ رابعہ ہی تھی؟
ممانی نے مسکراتے ہوئے اثبات میں اپنا سر ہلایا تو میں نے ان کو اس وقت تک نہ چھوڑا جب تک میرے لن نے دوبارہ منی ممانی نسرین کی پھدی میں نہ چھوڑ دی۔
اب مجھے رابعہ کا انتظار تھا۔
رابعہ بتیس سال کی ایک حسین عورت ہے جس کا جسم حد سے زیادہ بھر ا بھرا ہوا تھا جس وقت تک میں نے رابعہ سے زیادہ موٹی عورت نہیں دیکھی تھی تب تک صرف رابعہ کو موٹی عورت سمجھتا تھا، اس کی شادی اس سے سات سال زائد عمر کے آدمی سے ہوئی تو اس کے شوہر نے پہلی ہی رات کو اس قدر چود ڈالا کہ وہ ولیمے کے دن حقیقت میں ٹانگیں پھیلا پھیلا کر چل رہی تھی۔ جب کہ حقیقت اس کے بالکل برعکس تھی۔ رابعہ رات کو سہاگ رات کے بعد اپنے عاشق کے ساتھ بھی منہ کالا کرتی رہی یکے بعد دیگرے دو دو لن لینے کے بعد اب اس کی یہ حالت تھی ۔
لیکن روف عرف روفا اپنی بیوی کی اس حالت کو دیکھ کر اپنی مچھوں کو بار بار بڑی شان سے تاو دیئے جا رہا تھا۔ رابعہ کی حالت دیکھ کر اکثر دل پھینک عورتیں رووف پر عاشق ہو رہی تھی۔
رابعہ شرمائی شرمائی سٹیج پر بیٹھی ہوئی تھی اس کی سہیلیاں اسے تنگ کر رہی تھیں جبکہ دوسری جانب روف کو بھی اس کے دوست تنگ کر رہے تھے۔
جیسے ہی ممانی نسرین سٹیج پر پہنچی رابعہ کے چہرے کی رونق ایک لمحے کو غائب ہوگئی کیونکہ نسرین واحد سہیلی تھی جسے رابعہ کے پرانے معاشقے کا مکمل علم تھا۔
اسی معاشقے کے نتیجے میں اس کی جلد از جلد شادی کردی گئی لیکن رابعہ پھر بھی اپنے پرانے معاشقے سے باہر نہیں نکل رہی تھی۔ جیسے تیسےولیمہ ختم ہوا ممانی نسرین نے رابعہ کو آڑے ہاتھوں لیا۔
رابعہ ڈھیٹ بنتے ہوئے: ایسا کیا ہوگیا نسرین کہ تُو مجھے خوش نہیں دیکھ سکتی
نسرین: ایک دن تو نے بہت پچھتانا ہے
رابعہ ڈھیٹ بنے ہوئے: خیر اے! میں روف کو سنبھال لوں گی
نسرین نے ایک لمحے کو اس کے چہرے کو بغور دیکھا جہاں شیطانی مسکراہٹ تیر رہی تھی۔ پھر ممانی نسرین خاموش ہوگئیں کیونکہ وہ خود اس وقت پانچ سال سے بانجھ ہی تھیں۔
نسرین نے ایک مہینے کے بعد چکر لگایا تو رابعہ نے پھر سے ممانی نسرین کو لاجواب کردیا: تجھے میری اتنی فکر کیوں ہونے لگی نسرین؟ کہیں تُو بھی میرے یار پر(ممانی نے اس کی بات مکمل ہونے ہی نہ دی)
ممانی نسرین: ایسی نوبت کبھی بھی نہیں آئے گی۔ اگر یہ نوبت آ بھی گئی تو میں تیری طرح دو دو مردوں کے نیچے لیٹنے کے بجائے خودکشی کرلوں گی
رابعہ: چل یہ تو وقت ہی بتائے گا ۔ فلحال مجھے ڈاکٹر کے پاس جانا ہے ۔
رابعہ کی آنکھوں میں واضح اشارہ تھا جسے ممانی نسرین سمجھتی تھی اس لیے وہ بھی اجازت لے کر اپنے گھر آ گئیں۔
رابعہ اپنی بے احتیاطی اور ناسمجھی کی بنا پر اپنے بچے کو پیدا ہونے سے قبل ہی ضائع کروا لیا تھا۔ جبکہ رابعہ کے عاشق وقاص نے بھی شادی کرلی تھی ۔ شادی کے بعد اس نے شہر کا رخ کرلیا اسی لیے رووف کی بے حد کوششوں کے باوجود رابعہ پیٹ سے نہ ہو سکی وہیں رووف کی بیوی رابعہ کو دیکھ روف نے کافی عورتوں کو چودا لیکن وہ عورتیں رووف کو اپنی غلطی سمجھ کر اب تک اس سے چدوا رہی تھیں۔
مرد کو ایک بآسانی سے شکار مل جائے تو اس کا دل دوسرے شکار کی جانب جانے کا ارادہ خود بخود بن جاتا ہے وہی میرے ساتھ بھی ہوا۔ ممانی نسرین اولاد کی خاطر مجھ سے روزانہ چدوا رہی تھیں لیکن انہیں بھی معلوم ہوچکا تھا کہ ایک نہ ایک دن رابعہ بھی مجھ سے لازمی چدے گی۔ میں خود اب موقع کی تلاش میں رابعہ کے اردگرد گھوم رہا تھا۔جبکہ رووف کے کام میں دوڑ دوڑ کر کر رہا تھا اس کی بھی خاص وجہ تھی مجھے ناجانے کیوں ممانی نسرین سے زیادہ رابعہ کی گانڈ میں زیادہ دلچسپی محسوس ہو رہی تھی۔
شاید اس کی وجہ بھی یہی تھی کہ میں نے ممانی کو الٹا لٹا کر چودنا چاہا لیکن ممانی میرے لن کی رگڑ برداشت نہ کرسکیں تھی۔ اس لیے اب میرا ارادہ رابعہ کی موٹی گانڈ کی ٹھکائی تھا۔
ایک دن موقعہ ملتے ہی میں رابعہ کے گھر جا پہنچا مجھے معلوم تھا کہ ماموں اور رووف رات گئے تھے واپس نہیں آئیں گے اس لیے میں نے رووف چاچا کے کہنے پر بازار سے سامان لیا اور ان کے گھر جا پہنچا ۔ مجھے معلوم تھا کہ اس وقت رابعہ چاچی کی ساس گھر نہیں ہوں گی اس لیے موقعہ ملتے ہی رابعہ کے گھر کی راہ لی۔
میں نے دروازہ کھٹکایا تو رابعہ چاچی نےبند دروازے کے اندر سے ہی آواز دے کر پوچھا: کون ہے
ان کی آواز سے لگ رہا تھا کہ وہ سوئی ہوئی تھیں۔ میں نے ان کو بتایا کہ میں سائر ہوں چاچا نے سامان دے کر بھیجا ہے۔ چاچی نے میری آواز سن کر فوراً دروازہ کھول دیا میں نے سامان اٹھائے سیدھا ان کے کچن میں چلا گیا۔
سامان رکھ کر میں جیسے ہی پلٹا رابعہ چاچی کچن میں داخل ہو رہی تھیں ، میں نے ان کے آپس میں مستی کرتے مموں کو بغور دیکھا کیونکہ وہ بغیر دوپٹے کے دروازہ کھولنے باہر آئی تھیں۔
کچھ دنوں سے میری نظروں کی خرابی وہ جانچھ چکی تھیں اس لیے آج بھی انہوں نے مسکراتے ہوئے مجھے اپنے پستانوں کو دیکھنے دیا۔ جیسے ہی وہ میرے قریب پہنچیں تو میں بولا:چاچی! یہ سامان چچا نے بھیجا ہے۔ دیکھ لیں کوئی چیز رہ تو نہیں گئی
رابعہ چاچی نے میری شلوار کے تنبو کو دیکھتے ہوئے کہا: اچھا میں چیک کرتی ہوں
وہ میرے قریب سے گزری تو میں نے بھی اپنا رخ تبدیل کرتے ہوئے رابعہ چاچی کی جانب کرلیا، جیسے ہی وہ میرے قریب سے گزری حالانکہ ہم دونوں کے علاوہ تیسرا فرد بھی یہاں سے بآسانی گزر سکتا تھا لیکن شاید رابعہ چاچی مستی میں تھیں ۔ وہ میرے قریب سے گزرتے ہوئے میرے لن کو اپنے جسم سے رگڑتے ہوئے سامان کے پاس جا پہنچی۔
رابعہ چاچی کا جسم اس قدر گرم تھا میں اپنے الفاظ میں بیان نہیں کرسکتا ایک لمحے کو ایسا لگا جیسے چاچی رابعہ کو شدید بخار ہو اس بخار میں ان کا جسم جل رہا تھا۔ لیکن درحقیقت وہ اپنے بیڈ روم میں لیٹی فنگرنگ کر رہی تھیں جب میں ان کے دروازے پر پہنچا تھا۔
وہ میرے پاس سے گزر کر اب سامان کا شاپر کھول کھول کر سامان چیک کر رہی تھیں ۔ ان کی حرکات و سکنات سے چاچی کی گانڈ تھرک رہی تھی۔
میں ان کی گانڈ میں کھویا ہوا آگے بڑھنے کا فیصلہ کر رہا تھا مسلسل ایک ہفتے سے میں چاچی رابعہ پر ٹرائی کر رہا تھا ، اسی کوشش میں ، میں دکان کو وقت نہیں دے رہا تھا اور ہمیشہ ممانی کی چدائی کے وقت رابعہ چاچی کی گانڈ میں کھو جاتا تھا ۔ اسی لیے ممانی کی چدائی کے دوران طوالت پیدا ہورہی تھی۔ اس بات کا ذکر ممانی نے دو مرتبہ بھی کیا۔
رابعہ چاچی نے مجھے اپنی بڑی سی گانڈ میں کھویا ہوا دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولیں: سائر۔(میں خیالات سے باہر نکل تو آیا لیکن میرا دھیان ان کی گانڈ میں ہی تھا) ویسے تو سامان پورا ہے لیکن
چاچی رابعہ اچانک خاموش ہوگئیں۔ میں کافی دیر انتظار کرتا رہا پھر اچانک وہ میری طرف بڑھی اور میرے اکڑے ہوئے لن کو سہلاتے ہوئے میرے قریب سے گزر گئی
میں حیرت سے انہیں اور ان کی تھرکتی ہوئی گانڈ کو بیڈ روم میں جاتا دیکھ رہا تھا۔رابعہ چاچی کی جانب سے کھلی دعوت تھی جس میں بس دعوت گناہ ہی تھی
ﺍﯾﺴﯽ ﻟﮍﮐﯿﺎﮞ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﺟﻮ ﺧﻔﯿﮧ ﺗﻌﻠﻘﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺩﻟﭽﺴﭙﯽ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﮨﯿﮟ
ﺍﭘﻨﮯ ﺟﺴﻢ ﮐﯽ ﺁﮒ ﮐﻮ ﮨﺮ ﻃﺮﺡ ﺳﮯ ﭨﮭﻨﮉﺍ ﮐﺮﻭﺍﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﻣﮑﻤﻞ ﺭﺍﺯﺩﺍﺭﯼ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺗﻮ ﺑﻼ ﺟﺠﻬﮏ WhatsApp ﻣﯿﮟ ﺭﺍﺑﻄﮧ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﺭﺍﺯﺩﺍﺭﯼ ﮐﯽ ﮨﺮ ﻃﺮﺡ ﺳﮯ ﮔﺮﺍﻧﭩﯽ ﮨﮯ
ﺻﺮﻑ ﭘﯿﺎﺳﯽ ﻋﻮﺭﺗﯿﮟ
WhatsApp number
+923215369690
0 Comments