قسط ایک
بہزاد کنگ
میرا نام سائر زیب ہے ۔ مجھے سب سائر جی کے نام سے پکارتے ہیں۔ میٹرک کی تعلیم مکمل کرلینے کے بعد تین مہینوں کی چھٹیوں کے باعث میں ، ماموں کے کہنے پر ان کی موبائل شاپ پر بیٹھنا شروع ہوگیا۔ ابتدائی ایام مشکل سے گزرے ۔
لیکن پھر میں ماموں کی دکان کے متعلق سب کچھ سیکھتا چلا گیا۔
ویسے بھی زمانہ طالب علمی میں بچوں میں کسی چیز کو سیکھنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے اس لیے میں چند ایام میں ہی ان کی دکان کا ہر کام سیکھ چکا تھا پھر انہوں نے شہر سے کاریگر کو بلا رکھا تھا جس سے میں کام سیکھتا رہا۔
تین مہینے مکمل ہونے کے بعد میں نے آئی کام میں داخلہ لیا اور پہلے ٹائم کالج جانے لگا جبکہ چھٹی کے بعد ماموں کی دکان پر ہی کھانا کھا کر ان کی دکان دیکھتا رہتا، شام کو ماموں مجھے بائیک پر گھر لے جاتے ، زمانہ کالج ماموں نے بائیک چلانا بھی سیکھا دی کیونکہ وہ خود بائیک چلانے میں اتنا ماہر نہیں تھے ۔
کالج میں ابتدا میں ہی میرے تین دوست بن گئے تھے احسن ، اسرار، حمزہ۔ احسن اور اسرار کے ساتھ میری دوستی ریاضی کے مضمون کی وجہ سے ہوئی ہم تینوں نے ہمیشہ سے پروفیسر خورشید کو حیرت
زدہ کیا تھا اس لیے انہوں نے ہم تینوں کو اپنی کلاس کا مانیٹر بنا دیا تھا ۔میں ہمیشہ سے کلاس میں کم گو رہا تھا اس لیے شاید حمزہ کی توجہ اسرار اور احسن سے زیادہ مجھ پر رہی وہ بھی بہت جلد میرے دوستوں میں شمار ہونے لگا تھا۔
دوسری جانب ماموں اب مجھے دکان پر بیٹھنے کی باقاعدہ تنخواہ دینا شروع کردی تھی جوکہ ماموں پہلے میری امی کو دیتے تھے پھر ان کی انتقال کے بعد انہوں نے مجھے اپنے ہی گھر رکھ لیا تھا میں چونکہ اکلوتا بیٹا تھا اس لیے مامی نے بھی بخوشی مجھے اپنا لیا تھا لیکن پہلے پہل ان کا رویہ میرے لیے خشک ہی تھا ۔
لیکن رفتہ رفتہ مجھے بھی ان کی عادت ہوچلی تھی ۔
ایک دن میں کالج دیر سے پہنچا تو حمزہ اور اسرار ، احسن کو تنگ کر رہے تھے میں نے پہلے خاموشی ہی اختیار کی رکھی پھر جیسے ہی حمزہ نے مجھے احسن کی منگنی کی خبر سنائی تو میں بھی دوستوں کی خوشی میں خوش ہوگیا۔ میں بھی احسن کو چھیڑنے لگا۔
وہ بھی ہم دوستوں کی چھیڑخانی سے شرمانے لگا اس وقت میں نے محبت یا پسندیدگی کا جذبہ احسن کے ذریعے خود میں محسوس کیا تھا۔ اگلے دن احسن کی غیر موجودگی میں حمزہ نے ہی مجھے احسن کی منگیتر (ہونے والی بیوی) کی تصویر دکھائی۔
میں نے احسن کی منگیتر کی خوبصورتی کی صدق دل سے تعریف کی کیونکہ وہ سچ میں کافی خوبصورت تھی۔ حمزہ نے سرگوشی والے انداز میں مجھ سے کہا: عادی! مجھے ایک بات پر شک ہے۔
میں : کون سی بات پر؟
حمزہ: یہاں نہیں، واش روم کی طرف چلتے ہیں
کلاس میں کوئی پروفیسر موجود نہیں تھے، اس لیے میں بھی تجسس میں اس کے پیچھے چل پڑا واش رومز کے عقب میں ہم کھڑے ہوگئے جہاں فلحال کوئی بھی طالب علم موجود نہیں تھا۔ چونکہ ہم اب سیکنڈ ائیر میں پہنچ چکے تھے اس لیے ہمیں کالج بنک کرنے والوں میں کوئی بھی شمار نہیں کر سکتا تھا۔
میں بولا: اب بول۔۔۔ تجھے کس بات پر شک ہے؟
حمزہ نے ایک بار آس پاس نظر گھمائی پھر مجھے اپنے جیب سے ایک ٹچ فون نکال کر کہنے لگا: وعدہ کر ، یہ راز صرف ہم دونوں کےد رمیان میں رہے گا
میں نے اس کی آنکھوں میں عجیب سا تاثر دیکھا تھا میں نے بھی تجسس کے مارے اس کو ہاں کہہ دی: اچھا ٹھیک ہے۔۔ میں کسی کو کچھ بھی نہیں بتاوں گا
حمزہ نے ایک بار پھرمیر ی طرف گہری نظر وں سے دیکھا اور مجھ سے کہا: تجھے ہم دونوں کی دوستی کی قسم! اگر تُو نے اسرار کی طرح یہ بات احسن کو بتائی تو تیری خیر نہیں عادی!
مجھ پر یہ حقیقت ظاہر ہوچکی تھی کہ یہ بات احسن کے متعلقہ تھی۔ میرا دل بے چین ہوگیا تھا کیونکہ میں سچ میں احسن اور اسرار کو اپنا حقیقی دوست سمجھتا تھا۔
میں نے ہامی بھر لی تب اس نے موبائل کا لاک کھول کر مجھے موبائل پکڑا دیا۔ ویڈیو چل رہی تھی لیکن سکرین دھندلی ہی تھی۔ وہ مجھے کسی کے آنے پر میرا ہاتھ تھامے واش روم سے کچھ دور درختوں کے جھنڈ کی جانب لے گیا جہاں کوئی بھی موجود نہ تھا۔ ویڈیو کے ابتدائی سیکنڈز دھندلے گزرے لیکن جیسے ہی دھند ختم ہوئی مجھے احسن کا چہرہ نظر آیا ۔ وہ احسن ہی تھا جوں جوں ویڈیو آگے بڑھتی گئی میرا جسم عجیب سی کیفیت کی وجہ سے کانپنے لگا تھا۔
جیسے ہی ویڈیو کااختتام ہوا میں حمزہ کی شک والی بات سمجھ چکا تھا۔ حمزہ نے میرے ہاتھ سے موبائل پکڑ لیا اور مجھ سے بولا: اب میری بات پر یقین آیا؟
میں خاموش اسے خالی خالی نظروں سے دیکھ رہا تھا تب وہ دوبارہ بولا: مجھے شک تھا کہ احسن سے اتنی سیکسی ہاٹ لڑکی نے منگنی کیسے کرلی؟
میں نے ہکلاتے ہوئے حمزہ سے پوچھا: یہ ویڈیو تمہیں کیسے ملی؟
حمزہ کمینگی مسکراہٹ چہرے پر سجائے بولا: احسن کے موبائل سے
میں نے حیرت سے اسے دیکھا پھر اس نے میری سوالیہ نظروں کا جواب دیتے ہوئے سب کچھ بتا دیا۔ اگلے دن کچھ بھی خاص نہ ہوا بس احسن نے بتایا کہ اس کے سسرال والے ملنی (منگنی کے بعد سسرالیے دلہے کے گھر آتے ہیں اور کچھ رسومات ہوتی ہیں) کرنے آئے ہوئے تھے ، انہی کی خاطر مدارت میں کل کا دن گزرا۔
پروفیسر خورشید کے آنے کے بعد ہم نے ٹیسٹ کے لیے نگرانی شروع کردی تب اچانک اسرار نے مجھے سرگوشی والے انداز میں کہا: حمزہ نے تمہیں بھی وہی ویڈیو دکھائی تھی نا؟ (وہ جلدی سے اپنی لائن کی طرف متوجہ ہوگیا پھر جب ہم دوبارہ قریب آئے تو وہ بولا) حمزہ سچ میں بہت کمینہ ہے اس سے بچ کر رہنا
میں اسرار کی باتیں سن کر خاموش ہی رہا، پیپر جیسے ہی مکمل ہوا ہم تینوں نے اپنی لائنز آپس میں تبدیل کی اور پیپر چیک کرنے لگے۔ اس بات کا علم صرف پروفیسر خورشید کو ہوتا تھا یا ہمیں تینوں کو۔
حمزہ نے اپنے پیپر پر کچھ بھی نہیں لکھا جس کا علم مجھے بعد میں ہوا تھا اسے معلوم تھا کہ اس کا پیپر احسن چیک کرے گا کیونکہ وہ اسے بلیک میل کر رہا تھا لیکن اس کا پیپر اسرار نے چیک کیا تھا۔
اس دن پروفیسر خورشید شاید گھر سے لڑجھگڑ کر آئے تھے اس لیے انہوں نے جرمانہ بھی لیا اور فیل ہونے والوں
کو کھری کھری بھی سنا دی۔
کالج سے واپسی پر حمزہ نے احسن کو گھیر لیا لیکن ہم دونوں کی مداخلت سے وہ خاموشی سے لیکن غصے میں بھرا ہوا اپنے گھر کی طرف چلا گیا۔
اسرار اور حمزہ کے گھر ایک ہی راستے میں آتے تھے جبکہ احسن اور میرا گھر ایک ہی راستے پر تھا لیکن مجھے دکان پر بیٹھنا ہوتا تھا اس لیے میں گھر جانے کی بجائے دکان پر ہی چلا جاتا تھا جو کہ چوک میں تھی۔
احسن میری دکان کے قریب پہنچا تو میں نے اس کو تسلی دی لیکن وہ آب دیدہ لگ رہا تھا ۔ اس نے کچھ دیر کے بعد اپنے دل کی ساری بات مجھے بتا دی ۔ وہ دونوں بچپن سے ہی ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے حمزہ کی بلیو فلمز کی بدولت اس (احسن ) پر شہوت طاری ہوئی اور ان دونوں کے درمیان شرعی پردہ شادی سے پہلے ہی ختم ہوگیا۔
جس کا علم احسن کی آپی کو ہوگیا جو کہ اس سے ایک سال بڑی تھیں ۔ ان کی سمجھداری کی بنا پر یہ واقعہ سب کے سامنے نہ آسکا لیکن حمزہ کے اکسانے پر احسن نے ویڈیو بنا لی تھی جو بعد میں حمزہ نے حاصل کرلی جس کی وجہ سے احسن کے لیے مشکل کا سبب بن گئی تھی۔
ہماری ساری گفتگو ماموں نے سن لی انہوں نے احسن کو تسلی دی پھر ایک پلان ہمیں بتایا جس پر ہمیں کل عمل کرنا تھا۔ اگلے دن ہمارے پلان میں اسرار بھی شامل ہوچکا تھا اور اس پلان کو سرانجام بھی اسرار نے ہی دیا تھا۔ حمزہ چھٹی کے بعد میرے پاس آیا اور بولا: یار! یہ فون تو اپنے ماموں سے ٹھیک کروا دے۔
میں موبائل چیک کرتے ہوئے بولا: یار! یہ تو کافی مشکل سے سیٹ ہوگا
وہ بولا: نہیں یار! ایسا نہ بول
اس کے بدلتے تاثرات کا اندازہ میں نے لگا لیا تھا۔ میں نے اسی کے انداز میں کہا: چل! میں ماموں کو دیتا ہوں اگر انہوں نے تیرے فون کو سیٹ کرلیا تو ، توبدلے میں مجھے کیا دے گا؟
آخری فقرہ میں نے خود سے جوڑا تھا، وہ کچھ سوچتے ہوئے بولا: اگر موبائل سیٹ ہوجائے تب تجھے اپنے کسی خاص بندے سے ملوا دوں گا، ٹھیک ہے؟
میں بولا: چل یہ تو وقت بتائے گا کہ تو مجھے کس کے پاس لے جاتا ہے
وہ بھی بس مسکرا دیا ۔ میں نے اس کا ٹوٹا ہوا موبائل اپنی جیب میں ڈالا اور گیٹ سے باہر نکل آیا۔
ماموں نے سارا ڈیٹا کاپی کیا اور فون کو ری سیٹ آل کردیا اس میں موجود جو بھی ڈیٹا تھا وہ سب صاف ہوچکا تھا۔ اب مسئلہ ایل سی ڈی کا تھا جس کی اجازت حمزہ نے ہی دینی تھی۔
اگلے دن ماموں نے ریٹ بتا دیا تو حمزہ بولا: انکل! کچھ تو کم کریں میں عادی کا دوست ہوں
ماموں بولے: بیٹا جی! مجھے معلوم ہے تم عادی کے دوست ہو اسی لیے انتہائی کم ریٹ بتایا ، (پھر ماموں نے مجھے آواز دی میں نے تین سیٹ جو کہ کچھ دیر پہلے میں نے ری اپیر کیے تھے لاکر ماموں کے حوالے کیے) یہ دیکھو یہی تمہارا سیٹ ہے نا؟
حمزہ نے ہاں میں سر ہلایا تو وہ بولے : اس پر ریٹ چیک کرو
حمز ہ کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ حمزہ کو ماموں نے بظاہر کم ریٹ پر منوا لیا تھا لیکن یہ عام گاہک کا ہی ریٹ تھا بعد میں ، میں نے کسٹمر کے موبائل سے پرائس لسٹ اتار دی وہ ڈیڈ موبائل تھا جس کی ایل سی ڈی ماموں نے حمزہ کے موبائل میں ڈال کر چلا دی تھی۔
اگلے دن ماموں مجھے دکان پر بٹھا کر خود لاہور کے لیے نکل گئے میں رات کو دکان بند کرکے گھر پہنچا تو مامی مجھ پر برس پڑیں۔
میں نے خاموشی سے ان کی ڈانٹ سنی جب وہ خاموش ہوگئیں تو میں اپنے کمرے میں آ کر لیٹ گیا۔ کچھ دیر لیٹنے کے بعد میں اٹھا اور نہا کر باہر آیا تو مامی نسرین کھانا گرم کرکے میز پر لگا چکی تھیں۔
ہم جب کھانا کھا چکے تو وہ بولیں: اتنی دیر کوئی لگاتا ہے؟
میں: دکان پر اکیلا تھا ، ماموں لاہور گئے ہوئے ہیں ، اور کل سے بجلی بند تھی اس لیے آج کام زیادہ تھا اس لیے دیر ہوگئی آئندہ دیر نہیں ہوگی مامی
مامی نے ہوں کہہ کرکھانے کے برتن اٹھا کر کچن میں چلی گئیں۔جبکہ میں نے ان کی ٹھمکتی گانڈ کی پھاڑیوں کو بس حسرت سے دیکھتا رہا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔
میرے اور ممانی نسرین کے درمیان اب پہلے والی کیمسٹری (سخت رویہ) تبدیل ہوچکا تھا ممانی اب مجھے اپنے کام کہہ دیتی جنہیں میں کردیتا تھا ۔ ممانی اور میرے درمیان اب سوکھا روکھا رویہ تقریباً ختم ہوچکا تھا لیکن مجھ پر اب بھی ممانی کا دبدبہ موجود تھا ۔
یہ دن میرے لیے مائند چینجر ثابت ہوا تھا۔ ایک طرف حمز ہ نے اپنے موبائل پر ایک بلیو فلم دکھا کر گرم کردیا تھا جبکہ دوسری طرف ماموں کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی اس لیے وہ دکان کو اندر سے بند کرکے سو گئے تھے کیونکہ گھر جانے کا کوئی فائدہ نہ تھا کیونکہ گھر کی بجلی خراب تھی۔ اس لیے وہ دکان پر ہی سو گئے تھے۔
گھر جا کر بھی انہیں ممانی نسرین نے سکون سے سونے نہیں دینا تھا کیونکہ ان دونوں کی پسند کی شادی نہیں ہوئی تھی ابتدا میں ماموں نے ممانی کو پسند نہ کیا پھر جب وقت گزر گیا ماموں جس لڑکی کو پسند کرتے تھے اس کی شادی کسی اور سے ہوگئی تو انہوں نے جب ممانی نسرین کی طرف رجوع کرنے کی کوشش کی تو ممانی نے منہ پھیر لیا۔
اگر ممانی نسرین کے گھر والے ان کو سپورٹ کرتےتو وہ شادی کے پہلے مہینے ہی واپس چلی جاتیں۔ لیکن قسمت نے کچھ اور سوچ رکھا تھا۔ میں جب گھر پہنچا تو گیٹ بند تھا کافی دیر آوازیں دینے ، گیٹ ناک کرنے کے باوجود ممانی نے گیٹ جب نہ کھولا تو میں نے دیوار پھلانگنے کا فیصلہ کیا۔
دیوار پھلانگنے کے بعد میں نے اپنے کمرے کا رخ کیا۔ کپڑے تبدیل کیے باہر آیا تو مجھے ممانی ابتک نظر نہ آئیں میں نے کمروں کا جائزہ لیتے ہوئے جیسے ہی اوپر والے پورشن کا رخ کیا تو مجھے سسکیوں کی آواز سنائی دی۔
یہ آواز میں کافی مرتبہ بلیو فلمز میں سن چکا تھا اب تو کچھ دیر پہلے حمزہ کے موبائل پر باقاعدہ دیکھ کر آ رہا تھا اب تو یہ آواز سن کر میں مغالطہ نہیں کھا سکتا تھا۔
میں نے کچھ دیر نیچے رکا رہا پھر زور سے آواز دی: مامی! او مامی
ممانی کی ہڑبڑاہٹ کے ساتھ ساتھ مجھے کسی کی آواز سنائی دی، میں وہاں سے فوراً ہٹ گیا کچھ دیر کے بعد ممانی نیچے آئیں اور مجھ سے بولیں: تت۔۔ تم ۔۔۔ اندر کیسے آئے؟
میں : میرے ماموں کا گھر ہے ، میں کیسے آیا یہ فضول سوال ہے، یہ بتاو کہ تم کس کے ساتھ منہ کالا کر رہی تھی؟
ممانی کا چہرہ شرمندگی سے دوچار ہوچکا تھا ، وہ کچھ دیر خاموش رہی، میرے دوبارہ پوچھنے پر رو پڑیں، روتے ہوئے وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئیں میں بھی ان کے پیچھے ان کے کمرے میں داخل ہوا تو وہ الماری سے اپنے کپڑے نکال رہی تھیں۔
میں ان کے پاس جا کر بولا: اب یہ کیا نیا ناٹک ہے؟
وہ اب بھی مسلسل روئے جا رہی تھیں اور اپنے ماضی کی حقیقت بیان کر رہی تھیں،(جوکہ میں نے کچھ دیر پہلے بتا چکا ہوں) میں نے ممانی کا ہاتھ پکڑ کر ان کے ہاتھ سے ان کے کپڑے چھینے اور دوبارہ الماری میں رکھ کر بولا: آپ کو ذرا بھی ماموں کی عزت کا خیال نہیں آیا؟
میرے سوال پوچھنے پر ممانی کے رونے میں اضافہ ہوگیا ، ممانی روتے روتے اب بیڈ پر بیٹھ گئیں ۔ و ہ مجھ سے بولیں: عادی! تم مجھے بتاو آخر میرے پاس راستہ ہی کیا تھا؟
میں کھڑا بس انہیں دیکھ رہا تھا وہ بولیں: آج شادی کو دس سال ہوچکے ہیں عادی! تمہارے ماموں نے مجھ کم ذات میں کبھی دلچسپی ہی نہیں لی۔ ہر بار میں ہی موردالزام ٹھہری ، کہ مجھ سے تمہارے ماموں قابو نہیں ہوتے ۔ آخر کو میں بھی انسان ہی ہوں نا! میں عادی! بھٹک گئی تھی ۔ آخر بھٹکتی کیوں نہیں؟
میں: آپ پھر سے کوشش تو کرتی!
ممانی نسرین نے مجھے عجیب سی نظروں سے دیکھا: تم ابھی چھوٹے ہو سائر جی! تمہیں نہیں معلوم یہ سب کہنے کو باتیں ہوتی ہیں کرنے کو یہ سب مرد کے ہاتھ میں ہوتا ہے
میں: میں سمجھا نہیں
ممانی: اسی لیے تو کہا کہ تم ابھی نادان ہو سائری! تمہیں کچھ بھی سمجھ نہیں آئے گی
میں: آپ مجھے سمجھاو ورنہ میں آج کا واقعہ ماموں کو لازمی بتاوں گا
ممانی میری دھمکی سن کر بولیں: تم بھی! چلو ٹھیک ہے تم بھی مجھے بلیک میل کرلو
میں خاموش ہی رہا، وہ میری خاموشی پر دوبارہ بولیں: شادی کے بعد میں نے خود کو ہر طرح سے تمہارے ماموں کو پیش کیا لیکن ان کو مجھ سے زیادہ کسی اور میں دلچسپی تھی ۔ پھر بانجھ ہونے کے دبے دبے طعنے
ملنے لگے تب میں ان سے بدظن ہوگئی تب ان کا توجہ میری طرف مبذول ہوئی لیکن وقت گزر چکا تھا۔
سائر! میری زندگی میں کوئی اور آگیا ۔ میں بے حد خوش تھی کہ مجھے چاہنے والا کوئی اس دنیا میں موجود ہے ، میری توجہ اُس کی جانب جب ہوئی تو اس نے بھی مجھے اپنی طلب پوری کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہا۔ میرا دل پسیج گیا میں مر جانا چاہتی تھی تب تمہارے ماموں نے مجھے بکھیرنے سے بچایا لیکن ہم دونوں نے بہت دیر کر دی تھی۔
ممانی نسرین اچانک رک گئیں، میں نے ان کی آنکھوں میں دیکھاتو وہ میری آنکھوں میں ناجانے کیا ڈھونڈ رہی تھیں پھر وہ نظریں چراتے ہوئے بولیں: تمہارے ماموں اصل کام تک پہنچنے سے پہلے ہی بس کر جاتے ہیں۔(میں ممانی کے انکشاف کو سن کر حیرت زدہ ہوچکا تھا)تم سمجھ رہے ہو نا عادی؟
میں ممانی کےانکشاف سے نکل نہ پایا تھا کہ ممانی کے سوال نے مجھے چونکا دیا تھا۔ ممانی میرے چونکنے پر مجھے بغور دیکھا پھر وہ بولی: میں ابھی کچھ دیر پہلے اوپر جس کے ساتھ تھی وہ تمہارے ماموں کے دوست تھے لیکن وہ بھی تمہارے آ جانے سے ڈر کر بھاگ گئے ۔
میں نے حیرت سے ممانی نسرین کو دیکھا تو وہ بیڈ سے اٹھ کر میرے مقابل کھڑی ہوکر بولیں: تمہارے ماموں میری ہر ضرورت کو پورا کردیتے ہیں جو رہ جاتی ہے وہ تم پورا کردیتے ہو لیکن جس طرح زندگی کی دوسری ضروریات ہوتی ہیں اسی طرح میری بھی جسمانی ضروریات ہیں جن کو صرف تمہارے ماموں اگر پورا کریں تو جائز طریقہ ہے لیکن اب چونکہ تمہارے ماموں کا وہ اٹھنے کے فوراً بعد بس کر جاتا ہے تو مجھے اپنی جسمانی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ہاتھ کا استعمال کرنا پڑتا تھا۔ پھر ہم دونوں کے دل میں اولاد کی خواہش جاگنے لگی۔
ممانی مزید میرے قریب ہوتے ہوئے بولیں: ہم نے ڈاکٹروں کو چیک کروایا ان کے نزدیک تمہارے ماموں میں خرابی ہے تب سے میں کسی ایسے رازدار کی تلاش میں تھی جو یہ راز ، راز رکھے۔ اب اس راز پر پردہ تمہارے سامنے ہٹ چکا ہے کیا تم میری خواہش پوری کرو گے عادی؟ (وہ اپنی بات کرتے کرتے اچانک مجھ سے لپٹ گئیں، میرے جسم سے ممانی کا جسم مکمل طور پر مس ہونے لگا ممانی کے جسم کی گرمائش میرے جسم میں منتقل ہو رہی تھی ممانی اب میرے خاموشی کی وجہ سے شیر نی بن کر میرے جسم سے کھیل رہی تھیں)
میں نے ممانی کو پیچھے دھکیلتے ہوئے کہا: کک۔۔ کو۔۔کون ۔۔۔سی ۔۔ خواہش؟
ممانی میری گردن کو آگے بڑھ کر چومتے ہوئے بولیں: اس گھر کی خوشیاں لانے میں تم میری مدد کرو گے؟ کیا تم میرا مقام واپس دلانے میری مدد کرو گے؟
میں ممانی نسرین کے جسم کی گرمی کو اپنے جسم میں منتقل ہوتا ہوا محسوس کرکے بے ہودی میں گم ہوتے ہوئے بولا: اگر میں بھی آپ کی خواہش کو پورا نہ کرسکا تو۔۔
ممانی نے میری بات سن کر اپنے ہاتھ سے میرے اکڑے ہوئے لن کو پکڑ کر مسلتے ہوئے بولیں: اس خواہش کو میں ماضی سمجھ کر بھول جاوں گی لیکن تمہاری شکل میں مجھے میری جسمانی ضروریات کو پورا کرنے والا ایک راز دار گھر میں مل جائے گا ۔ ایسا رازدار مجھے ہر صورت چاہیے عادی!
میں: لیکن ممانی! میں آپ دونوں کا سگا بھی نہیں ہوں
ممانی تھوڑا غصے سے : آج کےبعد میں، یہ بات تمہارے منہ سے نہ سنوں۔ سمجھے؟
میں نے اس معاملے کے متعلق ماموں سے کافی مرتبہ ڈانٹ کھائی تھی اور ممانی سے آج پہلی مرتبہ ، اس سے پہلے کافی مرتبہ ممانی مجھے اس بات پر طعنے سنا چکی تھیں لیکن آج معاملہ کچھ اور تھا اس لیے ممانی کے منہ سے شیرنی نکل رہی تھی۔
میں نے ممانی کا غصہ کم کرنے کے لیے ان کو اپنے جسم سے لپٹا لیا اور ان کے ہونٹوں کو چوم لیا ۔ ممانی زیادہ سے زیادہ مجھ سے دس یا بارہ سال بڑی تھیں جبکہ ماموں مجھ سے پندرہ سال بڑے تھے۔ممانی ماموں کی نسبت گوری تھیں جبکہ ماموں کی شکل تھوڑی سی سیاہ تھی کیونکہ وہ جوانی کا کچھ عرصہ کسی فیکٹری میں کام کرتے تھے ۔ ممانی کو جب سے میں نے دیکھا ، وہ خود پر انتہائی کم توجہ دیتی تھیں۔ شاید یہی وجہ تھی کہ ماموں کی توجہ ممانی پر نہیں تھی۔
کچھ ہی لمحات میں ہم دونوں کپڑوں سے آزاد ہوچکے تھے ڈھلکے ہوئے پستان اب میرے ہاتھوں میں کھلونا بنے ہوئے تھے ممانی کے پستانوں کو اچھے سے دبا لینے اور ان کی نرمی کو محسوس کرلینے کے بعد میں نے ان کی خواہش پر ان کے پستانوں کو باری باری اپنے منہ میں بھر کر چوسنےلگا۔
وہ میری ہر حرکت پر سسکاریاں بھر رہی تھی ان کا ایک ہاتھ اپنی پھدی کو سہلانے میں مصروف تھا جبکہ دوسرا ہاتھ میرے ننگے بدن کو ٹٹولنے میں مصروف تھا۔
کچھ ہی لمحات کے بعد ممانی کا جسم اکڑا اور ان کے جسم جھٹکے لیتا ہوا ریلیکس پوزیشن میں آگیا۔ میں نے بھی ان کے پستانوں کو چوسنا روک دیا۔ اب وہ اٹھیں اور مجھے بیڈ پر لیٹا کر اپنی کپڑے والی برا سے اپنی پھدی کو خشک کرتے ہوئے میرے جسم کے اوپر آگئیں۔ انہوں نے ایک ٹانگ میرے دائیں جانب جبکہ دوسری بائیں جانب رکھ کر خود کو میرے لن کے اوپر ایڈجسٹ کرتے ہوئے پہلے میری آنکھوں میں دیکھا پھر مسکراتے ہوئے میرے لن پر اپنے منہ سے تھوک نکال کر میرے لن پر گراتے ہوئے میرے لن کو گیلا کیا۔ پھرآہستہ آہستہ اسے مٹھ لگانے کے انداز میں پکڑ کر اوپر نیچے کرتے ہوئے مدہوش نظروں سے مجھے دیکھتے ہوئے بولیں: سائر! اپنی نسرین مامی کو اپنا بنانے کے لیے تیار ہو؟
میں بھی اس وقت شہوت کی دنیا میں اڑ رہا تھا میرے منہ سے کیا نکلنا تھا میں نے اپنے ہاتھ آگے بڑھا کر ممانی کی موٹی سی گانڈ کو تھام کر اپنے لن پر ممانی کو بٹھانے لگا ، ممانی میرا اشارہ سمجھ کر میرے لن کو ہاتھ میں تھامے اپنی پھدی میں میرے لن کو گھسانے لگیں آہستہ آہستہ وہ میرے لن پر بیٹھ رہی تھیں ۔چونکہ میں اس شہوت کی دنیا میں نیا تھا اس لیے اس پہلے ملاپ کا اظہار میں شاید ٹھیک الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا ہوں البتہ جیسے جیسے میرا لن ممانی نسرین کی پھدی میں گھس رہا تھا میری آنکھیں بند ہو رہی تھیں۔
میری آنکھیں اس وقت کھلیں جب ممانی نے مجھے پکارا:سائر
میں نے آنکھیں کھول کر ممانی کو دیکھا وہ میرا مکمل لن اپنی پھدی میں لیے اکڑوں بیٹھی ہوئی تھی ان کا پتلا پیٹ میرے پیٹ سے ٹچ ہورہا تھا ۔ جبکہ میری طرح ان کی بھی آنکھوں میں مدہوشی چھائی ہوئی تھی۔ جب ہم دونوں کی آنکھیں چار ہوئیں تو وہ بولیں: بیٹا! تم شاید یقین نہ کرو گے! مجھے تمہاری ٹوپی کی نوک (اپنے پیٹ کے حصے پر انگلی رکھ کرمجھے دکھاتے ہوئے ) یہاں تک محسوس ہورہی ہے۔
ممانی کی خوشی یا مدہوشی دیکھ کر میں خاموش ہی رہا لیکن میرا دل بے چین ہو رہا تھا ۔ میں نے اسی انداز میں لیٹے ہوئے ممانی کے پستانوں کو اپنے ہاتھ میں لے کر دبانے لگا وہ کچھ دیر یونہی میرے سارے لن کو اپنی پھدی
میں لیے بیٹھی رہیں پھر وہ آہستہ آہستہ میرے لن پر اوپر نیچے ہونے لگیں۔
ممانی کےاوپر نیچے ہونے سے کچھ ہی دیر کے بعد میرا حلق خشک ہونے لگا تھا ، جوں جوں وقت گزر رہا تھا ممانی کی رفتار بڑھ رہی تھی جبکہ میں ممانی کے پستانوں کو چھوڑ کر ممانی کی موٹی گانڈ کو اپنے ہاتھوں میں تھام کر تیزی سے اوپر نیچے کرنے لگا تھا۔
حمزہ کی بلیو فلمز اپنا اثر دکھا رہی تھیں ، سب کچھ ویسا ہی ہو رہا تھا جیسے موویز میں دکھاتے تھے۔ اچانک میں نے ممانی کی موٹی گانڈ پوری شدت سے تھامے اپنے لن پر بٹھاتا چلا گیا وہ اوپر اٹھنا چاہتی تھی لیکن وہ میرے دباو کے آگے انہوں نے خود کو روک لیا تھا۔ جیسے ہی وہ رک گئیں ۔ میرا لن ان کی پھدی میں مکمل گم اپنے اندر کی گرمائش کو ممانی کی پھدی میں نکالنے لگا۔
میرے منہ سے غراہٹ ( پہلا سیکس اور پہلی ہی مرتبہ پھدی میں مکمل لن گھسائے فارغ ہونے والے مردوں کو معلوم ہوگا کہ اس وقت کس قسم کی آواز گلے سے نکلتی ہے) ممانی کے منہ سے نکلنے والی تیز سسکاریوں میں مکس ہو کر کمرے کا ماحول شہوت آمیز بنا رہی تھی۔
کچھ دیر کے بعد جب طوفان تھما تو ممانی کو میں نے اپنے جسم سے لپٹا ہوا محسوس کیا ان کا جسم ہلکا ہلکا کانپ رہا تھا جیسے ہی ان کی سانسیں تھم گئیں وہ مجھے بے تحاشہ چومنے چاٹنے لگی تھیں۔
کچھ دیر کے بعد وہ میرے جسم سے الگ ہوئیں اور واش روم میں گھس گئیں۔ میں نے بھی اپنےکپڑے سمیٹے اور اپنے کمرے میں پہنچ کر نہایا اور کپڑے پہن کر لیٹ گیا۔ کچھ ہی دیر میں، میری آنکھ لگ گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس رنگین واقعے کے بعد گویا میری گھریلو زندگی بدل چکی تھی ممانی نسرین کا سوکھا روکھا رویہ اب ماموں کے سامنے آہستہ آہستہ تبدیل ہورہا تھا لیکن حقیقت میں ان کی غیر موجودگی میں ممانی ، ماموں کے بجائے میری بیوی کی طرح میرا خیال رکھ رہی تھیں۔
پہلی چدائی کے بعد جب میں سو کر جاگا تو ممانی مجھے ہی جگا رہی تھیں ۔ ان کو دیکھ کر میرے چہرے پر مسکراہٹ طاری ہوگئی ۔ وہ بھی مجھے مسکراتا ہوا دیکھ کر مسکرانے لگیں۔
ممانی: اٹھ گئے بیٹا! اب تم یہ گرم دودھ پی لینا۔
میں اٹھ بیٹھا ، نیم گرم دودھ پینے کے بعد میں جب کمرے سے باہر آیا تو ممانی چائے بنا چکی تھی لیکن انہوں نے مجھے چائے کی بجائے فروٹس کھانے کو دیئے۔
رات کو ماموں گھر آئے تو ممانی نے ان کو کھانے کا پوچھا لیکن انہوں نے انکار کر دیا ممانی نے ان کو ہلکی غذا بنا کر ساتھ میں میڈیسن دیں۔ میں بھی ممانی کا انتظار کرتے کرتے جب سونے لگا تو ممانی میرے کمرے میں داخل ہوئیں۔ پھر اندھیری رات تھی اور ہم دونوں تھے۔ ہم دونوں فارغ ہوکر ایک دوسرے کی بانہوں میں لپٹے ہوئے سو گئے۔ صبح ممانی مجھ سے پہلے جاگ گئیں ۔
کالج پہنچا تو وہی کالج کی روٹین تھی شام کو دکان بند کرکے گھر پہنچے تو ماموں سیدھا اپنے کمرے میں ہی چلے گئے ان کی طبیعت واقعی ہی ناساز تھی لیکن ممانی کو ان کی اب کوئی پرواہ نہ تھی۔ ممانی نے کھانا دیا ، رات کے وقت ممانی پھر سے ماموں کے سو جانے کے بعد میرے کمرے میں آ گئیں۔
ابتک ممانی کو میں مختلف انداز میں چود چکا تھا لیکن آج ممانی کے کہنے پر ان کو کتیا بنا کر چود رہا تھا جس کی وجہ سے ان کے بے ڈھنگے پستان مسلسل ہل رہے تھے۔ کمرے میں ان کے منہ سے نکلنے والی سسکاریاں چدائی کی مدھم آوازوں کے ساتھ مل کر کمرے کا
ماحو ل سیکسی بنا رہی تھیں۔
ان کی چوت سے چوت کا پانی ہلکا ہلکا رس رہا تھا جس کی وجہ سے ان کی گیلی چوت میرے لن کو کافی تیزی سے اندر باہر ہونے میں مدد کررہا تھا تھوڑا زور سے جھٹکا ان کے منہ سے بھی تیز سسکاری نکالنے پر مجبور کر دیتا تھا۔ تب ہی میں
0 Comments