باپ بیٹی part 11

پارٹ گیارہ

ایمن چلے ٹھیک ہے ابا میں اب جا کے سوتی ہوں میں نے صبح پیپر بھی دینے جانا ہے
ابا چلو ٹھیک ہے تم جا کے سو جاؤ صبح میں آئی فون لے آؤ گا تمہارے لیے
ایمن شکریہ ابا اتنا کہہ کر ایمن اپنے کمرے میں چلی جاتی ہے اور جا کے سو جاتی ہے
صبح ایمن اٹھتی ہے اور ہلکا پھلکا ناشتہ بنا کر ابا کو بھی دیتی ہے اور خود بھی کر کے کالج چلی جاتی ہے اور جا کر اپنا پیپر دیتی ہے 
وہ پیپر دے کے تقریباً 11 بجے کالج سے واپس آتی ہے جب وہ واپس آتی ہے تو ابا حال ہی میں بیٹھے ہوتے ہیں ابا اس سے کہتے ہیں کہ چلو ایمن بیٹا میرے ساتھ میں تمہیں آئی فون بھی لے کر دیتا ہوں اور شاپنگ بھی کر لینا اور شاپنگ کے بعد ہم فلم دیکھنے بھی جائے گے اور کھانا بھی ہم باہر کھائے گے
ایمن خوشی سے سچی ابا
ابا : ہاں تم جلدی سے تیار ہو کے آ جاؤ اور ہاں اچھے سے کپڑے پہن کر انا
ایمن جی ابا میں ابھی فریش ہو کے آئی اور آپ بھی کپڑے تبدیل کر لو
ابا ہاں ٹھیک ہے میں بھی کپڑے تبدیل کر لوں
ایمن بھاگ کر جاتی ہے کمرے میں اور اپنے لیے سفید رنگ کی شوٹ شرٹ نکالتی ہے اور اس کے ساتھ ایک نیلے رنگ کی پینٹی نکالتی ہے
اس کا جسم تھوڑا بھروا بھروا سا اور موٹا ہے گول گول گال ہے
مموں کا سائز 36 ہے اور وہ اس سفید شوٹ شرٹ میں کیوٹ لگ رہی تھی
ہلکا سا میک اپ کرتی ہے اور باہر چلی جاتی ہے اس کا ابا اس کے انتظار میں ہال میں بیٹھا ہوا ہے
جب ایمن نیچے جاتی ہے اس کا ابا اسے دیکھتا ہی رہ جاتا ہے
ایمن بہت ہی کیوٹ اور ہوٹ لگ رہی تھی
ابا اپنے ذہن میں سوچتا ہے کہ یہ بھی میری ہی بیٹی ہے اور اس قدر ہوٹ ہے مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا
ابا ماشاءاللہ تم بہت خوبصورت لگ رہی 
ایمن جی ابا اب چلیں
ابا ہاں چلو وہ دونوں گاڑی میں بیٹھ کر گھر سے نکل جاتے ہیں اس کا ابا سارے راستے بھی اسی کو ہی دیکھتا رہتا ہے
تھوڑی ہی دیر بعد فون والی مارکیٹ آ جاتی ہے اور ابا گاڑی روک کر چلو بیٹا مارکیٹ آ گئی ہے
ایمن اور اس کا ابا گاڑی سے نیچے آ جاتے ہیں ایمن بہت ہی خوش ہے
اب وہ مارکیٹ میں اندر جاتے ہیں اور بہت سارے فون ہوتے ہیں
ایمن اتنے سارے موبائل میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھے
 مارکیٹ میں ایمن کو تو سمجھ ہی نہیں آتا کہ وہ کونسا فون لے
خیر اس کا ابا کہتا ہے بیٹا کونسا ماڈل لینا آپ نے
ایمن ابا 14 pro max لینا ہے مجھے
دکان والا اس کو فون دیتا ہے اور وہ بہت ہی خوش ہو جاتی ہے اس کا ابا دکان والے کو پیسے دیتا ہے اور فون لے کر باہر آ جاتے ہیں وہ
باہر آ کر ایمن ابا آپ کو پتہ ہے میں کتنی خوش ہوں آپ نے مجھے آئی فون لے کر دیا
ابا تم خوش ہو میرے لیے اتنا ہی کافی ہے
آخر تم لوگوں کے علاؤہ میرا ہے ہی کون 
ایمن:اب کہاں جانا ہے ابا
ابا:اب ہم دونوں نے شاپنگ کے لیے جانا ہے تم نے جو لینا ہے وہ خرید لینا بیٹا 
ایمن:جی ابا ابا مجھے کچھ چیزیں لینی ہے وہ مجھے دلا دے گے آپ
ابا:ہاں جو تم کہو گی میں تمہیں وہی لے دوں گا
ایمن:ابا بہت بہت شکریہ آپ کا
ابا اس میں شکریہ والی کیا بات ہے
سب کچھ تمہارا ہی تو ہے
وہ گاڑی میں بیٹھتے ہیں اور شاپنگ مال کی طرف نکل جاتے ہیں
شاپنگ مال پہنچ کر ابا: ایمن بیٹا چلو شاپنگ مال آ گیا ہے جو کچھ لینا ہے آپ لے لوں
مال کے اندر داخل ہوتے ہی ایمن کو جوتے نظر آتے ہیں ہیل والے ایمن وہ لے لیتی ہے
کپڑے بھی کافی سارے لے لیتی ہے اس میں برا ہوتی ہے تین چار رنگ کی نیلے رنگ کی لال رنگ کی اور مختلف رنگوں کی ہوتی ہے چار پانچ بھرا
اور پینٹ شرٹ بھی لیتی ہے اور میک اپ بھی لیتی ہے ایک سوٹ پیکنگ میں ہی ہوتا ہے جو اس کا ابا اس کے لیے لیتا ہے
کافی ساری شاپنگ کے بعد ایمن ابا اب گھر چلے 
ابا: نہیں بیٹا گھر نہیں ہم نے ابھی فلم دیکھنے بھی تو جانا ہے
ایمن:ابا جی سچی ہم نے فلم دیکھنے بھی جانا ہے ؟؟؟
ابا ہاں بیٹا ہم نے جانا ہے فلم دیکھنے
ایمن خوش سے جلدی چلیں پھر ابا کہیں فلم مس نہ ہو جائے
سارا سامان گاڑی میں رکھ وہ دونوں فلم دیکھنے چلے جاتے ہیں ایمن کھانے والی چیزیں لے کر جاتی ہے جن میں چاکلیٹ اور لیز چپس ہوتے ہیں
ایمن:ابا یہ میں فلم کے درمیان میں کھاؤ گی کیونکہ مجھے بھوک لگی ہوئی ہے
وہ دونوں چلے جاتے ہیں اندر
فلم بھی شروع ہو چکی ہے
فلم دیکھنے کے ساتھ ساتھ ایمن اپنی چیزیں بھی کھانے میں لگی ہوئی ہے
فلم میں ایک ہوٹ سین بھی اتا ہے جس میں لڑکا لڑکی کے پہلے تو کس کرتا ہے پھر اس کے ہونٹ چوسنے لگ جاتا ہے پورے پانچ منٹ تک یہ سین چلا ہے
ابا کو تو فیل آتی ہے ایمن بھی ہلکا سا فیل محسوس کرتی ہے پر شو نہیں کرتی
خیر فلم ختم ہو جاتی ہے اور وہ باہر آ جاتے ہیں
اب ایمن کہتی ہے ابا گھر چلے ابا کہتا ہے کہ ابھی تو کھانا کھانا ہے
ایمن ابا پیزا لے لیتے ہیں اور موبائل کی پارٹی کریں گے اور مزے سے کھائے گے اور ابھی کچھ ہلکا پھلکا کچھ کھا لیتے ہیں
ابا ٹھیک ہے جیسا تم کہو 
وہ دونوں تھوڑا سا کھانا کھاتے ہیں اور پیزا ساتھ میں گھر لے جاتے ہیں
رات کے تقریباً 11 بج چکے ہوتے ہیں وہ پیزا لے کر گھر آ جاتے ہیں
ایمن آج بہت ہی خوش دکھائی دے رہی ہے
گاڑی میں بیٹھے ہوئے ایمن: ابا آپ کو پتہ ہے اج میں کتنی خوش ہوں بہت زیادہ خوشی دی آپ نے
ابا چلو ٹھیک ہے تم خوش تو ہم خوش
گھر پہنچ کر ایمن سارا سامان کمرے میں رکھتی ہے اور خود پیزا کھانے کے لیے کھانے کی ٹیبل پہ آ جاتی ہے اور اپنے ابا کے ساتھ پیزا کھاتی ہے اور برتن کچن میں رکھ کر وہ اپنے کمرے میں جانے لگتی ہے کہ اس کا ابا کہتا ہے میں تمہارے لیے ایک گفٹ لایا ہوں
ایمن ابا آپ نے اتنا کچھ تو لے دیا ہے اب اور کیا ہے باقی دینے کو
ابا بس ایک چیز
ایمن اچھا
ابا میں نے تمہیں اتنی ساری چیزیں لے کر دی ہے تم بھی میرا ایک کام کرو
ایمن:ابا آپ کے لیے تو جان بھی حاضر ہے بتائیں کیا کام ہے ایمن کا ابا اس کو ایک پیک ہوا کچھ پکڑتے ہیں اور کہتے ہیں بیٹا یہ پہن کے مجھے دیکھاؤ
ایمن:بس ابا اتنی سی بات ہے میں ابھی گئی اور پہن کے آئی
ایمن اپنے کمرے میں جاتی ہے جب وہ اس کو کھولتی ہے تو اس میں ایک جالی والی برا ہوتی ہے
ایمن دیکھ کے حیران ہو جاتی ہے
اور سوچتی ہے میں یہ کیسے پہن لوں 
خیر وہ اپنے ابا کے لیے پہن لیتی ہے اور جب خود کو آئینے کے سامنے دیکھتی ہے تو اس میں سے ہر چیز نظر آتی ہے
وہ خود کو دیکھ کر آنکھیں نیچے کر لیتی ہے
وہ آہستہ آہستہ چل کر ابا کے کمرے تک چلی جاتی ہے اور آنکھیں نیچی ہی رکھتی ہے
اس کا ابا اس کو دیکھتے ہی پاگل
وہ بہت ہی پیاری لگ رہی ہوتی ہے اور ہوٹ بھی
 ہو جاتا ہے وہ آنکھیں نیچی ہی رکھتی ہے
چہرہ اوپر کرتی ہی نہیں ہے
اس کا ابا اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کو آئینے کے سامنے لے آتا ہے وہ پھر بھی چہرا اوپر نہیں کرتی
اس کا ابا اس کے قریب ہو کے اس کا چہرہ اوپر کرتا ہے
ابا کا لن اس کو دیکھتے ہی کھڑا ہو جاتا ہے 
جب ابا ایمن کے قریب ہوتا ہے ایمن کو گانڈ پر لن لگتا ہے وہ تھوڑی سا آگے ہو جاتی ہے 
ابا اس کو کہتا ہے بیٹا تم کتنی پیاری لگ رہی ہو دیکھوں تو سہی خود کو
ابا اس کا تھوڑا اور اگے ہو جاتا ہے
پھر سے لن اس گانڈ پر لگتا ہے ابا کو کرنٹ سا لگتا ہے
ایمن کو بھی اچھا لگتا ہے وہ سوچتی ہے کہ ضرورت تو مجھے بھی محسوس ہو رہی ہے سیکس کی میں بھی بڑی ہو رہی ہوں باہر جانے سے بہتر ہے اپنے گھر میں ہی رہ لو 
مجھے پتہ ہے ابا کیا چاہتے ہیں 
وہ مجھے چاہتے ہیں تو میں ان کی بات مان لیتی ہوں ایمن یہی سوچتی ہے اور
اس کا ابا پہلے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتا ہے
پھر اس کی گردن پر کس کرتا ہے
ایمن اپنے ابا کی گرم سانسوں کو محسوس کرتی ہے اور اس کی بھی سانسوں کی رفتار تیز ہو جاتی ہے
اس کا 
آہستہ آہستہ اس کا ابا اپنے ہاتھ اس کے مموں پر لے آتا ہے اور جیسے ہی مموں کو دباتا ہے ایمن کو بہت اچھا فیل ہوتا ہے اور مزہ بھی آتا ہے اس کا ابا اس کو گھما کر اپنی طرف کرتا ہے اور اس کے ہونٹوں پر کسنگ کرنا شروع کر دیتا ہے
ایمن اپنی آنکھیں بند کر لیتی ہے
پہلے اس کے ہونٹوں پر کس کرتا ہے پھر اس کے مموں پر کس کرتا ہے اور ساتھ ساتھ مموں کو دباتا ہے اور ایمن کو بہت مزہ آ رہا ہے ابا ایمن کو بیڈ پر لے جاتا ہے اور لیٹا دیتا ہے اور اس کے پاؤں سے شروع کر کے اس کے مموں تک اس کا جسم چومتا ہے اس کے مموں کو منہ میں ڈال کر چوستا ہے اور کبھی اس کے ہونٹوں کو منہ میں ڈال کر چوستا ہے ایمن کو بہت مزہ آرہا ہے کہ اس کے منہ سے سسکاریاں نکل رہی ہے مزے سے 
اسکا ابا اسے خوب مزے دے رہا تھا پھر اس کا ابا اس کی پینٹی اتار دیتا ہے اور اس کی پھدی پر کس کرتا ہے اس سے ایمن کو اتنا مزہ آتا ہے کہ وہ تڑپنے لگ جاتی ہے
ایمن کافی حد تک گرم ہو چکی تھی اس کے ابا نے اس کی پھدی میں انگلی ڈال کر آگے پیچھے کیا کیونکہ وہ ابھی لن نہیں ڈال سکتا تھا کیونکہ اس کی پھدی کے ہونٹ بہت ہی تنگ تھے اس نے ہونٹوں کو کھول کر زبان پھیری ایمن تو مزے سے تڑپنے لگ گئی سسکاریاں نکلنے لگ گئی ۔
اس کے ابا نے اپنی انگلی ڈال کر ایمن کو چودا ابا نے پھدی میں انگلی ڈال کر آگے پیچھے کی اور ساٹھ ساتھ اس کے ہونٹوں کو چومتے رہے 
تھوڑی دیر بعد ایمن جب فارغ ہونے والی تھی تو اس کا جسم اکھڑ سا گیا
ایمن ابا مجھے کچھ ہو رہا ہے میرےگھر اندر سے کچھ نکل رہا ہے ابا کہتا ہے کہ نکلنے دو تھوڑی دیر بعد ایمن فارغ ہو جاتی ہے
ابا اس کو کہتا ہے کہ واش روم میں چلی جاؤ وہ واش روم سے ہو کے آتی ہے تو کہتی ہے اچھا ابا اب میں چلتی ہوں سونے
ابا ایمن کا ہاتھ پکڑ لیتا ہے اور کہتا ہے کہ اج ہم ایک ساتھ سوتے ہیں اج تم میرے ساتھ ہی سو جاؤ
ابا ایمن کو بیڈ پر بیٹھایا دیتا ہے اور دوبار سے اس کو چومنے لگ جاتا ہے اور اب ابا اپنے کپڑے اتار دیتا ہے اور اپنا لن نکال کر ایمن کو کہتا ہے اس کو منہ میں لو
ایمن نہیں ابا یہ گندا ہوتا ہے میں نے نہیں لینا
ابا: نہیں بیٹا کس تو کرو اس پر ایمن ہلکی سی کس کرتی ہے پھر ابا کہتا ہے کہ کس کرو اس پر آہستہ آہستہ وہ کس کرتی رہتی ہے اور پھر ابا کہتا ہے کہ منہ میں لے لوں اس کو ایمن منع کرتی ہے لیکن ابا کہتا ہے میں نے تمہارے لئے اتنا کچھ کیا اور تم میرا منہ میں بھی نہیں لیتی
پھر ایمن اس کو منہ میں لیتی ہے اور مد ہوش سی ہو جاتی ہے ابا کو بھی مزہ آرہا تھا
پھر تھوڑی دیر بعد ابا ایمن کے مموں کو دباتے ہوئے اس کے ہونٹوں پر کس کرتا ہے 
ابا ایمن سے کہتا ہے کہ تم کب اتنی بڑی ہو گئی ہو مجھے تو پتہ ہی نہیں چلا
پھر ابا ایمن کو کہتا ہے کہ لیٹ جاؤ
ابا اس کی ٹانگیں کھول کر درمیان میں اس کی پھدی میں کافی سارا تیل لگاتا ہے اور اپنے لن کو بھی تیل سے تر کر لیتا ہے تاکہ اس کی بیٹی کو زیادہ درد نہ ہو
ابا جی اس کی ٹانگوں کے درمیان بیٹھ کر اپنا لن اس کی پھدی پر سیٹ کرتا ہے
پہلے اس کی پھدی پر لن کو رگڑتا ہے جس سے ایمن مد ہوش سی ہو
 جاتی ہے اور اس کو مزہ آتا ہے ابا لن کو ہلکا سا اندر کرتا ہے ابھی صرف ٹوپا ہی اندر جاتا ہے ایمن کی چیخ نکل جاتی ہے وہ رونے لگ جاتی ہے
ابا پلیز اسے باہر نکالو مجھے درد ہورہا ہے پلیز ابا
ابا: نہیں کچھ بھی نہیں ہوتا تھوڑا سا درد ہو گا پھر ٹھیک ہو جاؤ گا پھر تمہیں مزہ آئے گا
 ابا ایمن کے آنسو صاف کرتے ہیں اور اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ لیتے ہیں تاکہ اس کی آواز باہر نہ آئے
پھر بھی ہلکی ہلکی آوازیں باہر آتی ہے تھوڑی دیر تک ابا لن کو اندر باہر کرتے ہیں ایمن کو تھوڑا سا درد ہوتا ہے اور بعد میں اس کو مزہ آنے لگ جاتا ہے جاتا ہے ابا کے لن نے اسے مدہوش سا کر دیا ہے
اور مزے سے اس کے منہ سے آہ آہ آہ اوہ اوہ نکل رہا ہوتا ہے اور کمرہ اہ اہ اہ اف کی آوازوں سے گونجتا ہے
تھوڑی دیر بعد ایمن فارغ ہو جاتی ہے اس کے دو منٹ بعد ابا بھی فارغ ہو جاتے ہیں اور ایمن ابا کے ساتھ ہی سو جاتی ہے

جاری ہے
ﺍﯾﺴﯽ ﻟﮍﮐﯿﺎﮞ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﺟﻮ ﺧﻔﯿﮧ ﺗﻌﻠﻘﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺩﻟﭽﺴﭙﯽ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﮨﯿﮟ
ﺍﭘﻨﮯ ﺟﺴﻢ ﮐﯽ ﺁﮒ ﮐﻮ ﮨﺮ ﻃﺮﺡ ﺳﮯ ﭨﮭﻨﮉﺍ ﮐﺮﻭﺍﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﻣﮑﻤﻞ ﺭﺍﺯﺩﺍﺭﯼ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺗﻮ ﺑﻼ ﺟﺠﻬﮏ WhatsApp ﻣﯿﮟ ﺭﺍﺑﻄﮧ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﺭﺍﺯﺩﺍﺭﯼ ﮐﯽ ﮨﺮ ﻃﺮﺡ ﺳﮯ ﮔﺮﺍﻧﭩﯽ ﮨﮯ
ﺻﺮﻑ ﭘﯿﺎﺳﯽ ﻋﻮﺭﺗﯿﮟ
WhatsApp number 
+923215369690

Post a Comment

0 Comments

Comments