مونچھیں

مونچھیں

میرا نام مہرو نساء جعفری ھے میری عمر چوبیس سال ھے میں حیدرآباد سندھ کی رھنے والی ھوں میں بچپن سے شادی تک کسی کے ساتھ اپنے جذبات شئیر نہیں کرتی تھی میں سیل بند تھی جب میری شادی ھوئی اور پھر آیا میری زندگی میں بدلاؤ جو میں بیان کرونگی
گھر میں پلی پڑھی تھی یہ نہ تو کوئی خاص مذہبی گھرانہ تھا جہاں بہت زیادہ سختی برتی جا رہی ہو اور نہ ہی آزاد خیال کہ جو مرضی کرو اور کوئی پوچھ تاچھ نہیں 
والد کام پر جاتے شام کو گھر لوٹ آتے اماں گھریلو کاموں میں مصروف رہتیں یونہی زندگی ایک ہی ڈگر پر چل رہی تھی۔مہروکی بھی بہت زیادہ سہیلیاں نہیں تھیں سکول کا سب کچھ سکول میں رہ جاتا اور گھر آ کر والدہ کے ساتھ گھرکے کاموں میں ہاتھ بٹا دیتی البتہ ابا جی کے لیے رات کی چائےمہرو نے ہی بنانی ہوتی تھی 
سکول ختم ہوا تو نہ مہرونے کسی کالج میں جانے کے لیے تگ دو کی اور نہ ہی گھر میں کسی نے پوچھا کہ آگے کی پڑھائی کا کیا کرنا ہے یوں وہ کالج بھی نہ جاسکی
ماں نےمہرو کو گھر کے کاموں میں مشغول کر لیا اور جیسے ہی پہلا رشتہ آیا مناسب دیکھ بھال کے بعدمہروکے لیے فوراً ہاں کردی
شادی کے بعد بھی مہرو کی زندگی کچھ خاص نہیں بدلی خاوند اچھا تھا خیال رکھتا تھا بہت زیادہ نکتہ چینی بھی نہیں کرتا تھا معمول کی زندگی گزر رہی تھی کہ ایک دن اچانک ایک بھونچال سا آ گیا
ہوا یوں کہ ایک قریبی عزیز کی مہندی کے موقع پرمہرو پیچھے سٹور روم میں کپڑے بدلنے گئی سٹور روم کا دروازہ نہیں تھا اس لیےمہرونے بلب آن نہیں کیا قمیض اتار کر ایک طرف رکھی ہی تھی کہ اچانک اسکا نندوئی کمرے میں داخل ہوا وہ ہڑبڑا کر رہ گئی اس اچانک آمد نے جیسے اسکے اوسان ہی خطا کردیئے 
دوسری طرف دیکھا کے نندوئی کا بھی یہی حال تھا وہ چند ثانیے مبہوت کھڑا رہا اس سے پہلے کہ وہ سنبھلتی اس نے آگے بڑھ کرمہرو کی گردن کے پیچھے ہاتھ ڈال کر بالوں سے پکڑاکر گردن پر بوسہ دیا ساتھ ہی اسکی گال ہر اپنے ہونٹ رکھ دیئے مہرو نے جھٹکے سے اس سے اپنا آپ چھڑایا اور قمیض اٹھا کر پہننے لگی اتنی دیر میں اسکا نندوئی بھی تیز تیز قدم اٹھاتا کمرے سے باہر نکل گیا جب تک دوبارہ حال میں آئی تو اس کے اوسان خطا تھے وہ اجنبیت سے سب پر نظریں دوڑا رہی رھی جیسے اسے اپنے چور کی تلاش ہو کہیں بھی کوئی غیر معمولی بات نہ دیکھ کر وہ طمانیت سے ایک طرف صوفے ہر بیٹھ گئی اسکی آنکھیں بند تھیں اور وہی منظر اس کی نظروں میں بار بار گھوم رہا تھا جو چند لمحے پہلے اسکے ساتھ پیش آیا تھا
اسکے خاوند تو کلین شیو تھے البتہ کچھ دیر پہلے اپنے گالوں پر کسی اجنبی کی مونچھوں کی چبھن اب اسے بھلی محسوس ہو رہی تھی مہرو نے غیر ارادی طور پر ہاتھ اپنی گردن اور گال پر پھیرا 
وقت گزرتا رہا اور وہ کسی اجنبی کے لمس کی پیاسی ہوتی چلی گئی اسے رہ رہ کر وہ منظر یاد آتا مونچھ کی وہ چبھن اسے کہیں تسکین نہ لینے دیتی۔ 
جہاں وہ لوگ پہلے رہائش پزیر تھے چھت پر جانے کا موقع بہت کم ملتا البتہ اب وہ نئے مکان میں شفٹ ہو گئے جہاں وہ اکثر چھت ہر ٹہلنے کی غرض سے چلی جاتی یہیں سے اسکی زندگی کا نیا رخ شروع ہوا
شاھد۔ مہرو کا پڑوسی تھا جو حیدرآباد میں ھی ٹرانسپورٹ کا کاروبار کرتا تھا چھت پر ٹہلتے ٹہلتے کبھی کبھارمہرو کی نظرشاھد پر پڑتی اسکی مونچھیں دیکھ کر غیر ارادی اپنی گردن پر ہاتھ پھیر دیتی
شاھد شاید گھر میں کسی کے سامنے سگریٹ نہیں پیتا تھا کیونکہ وہ اکثر و بیشتر تھوڑی دیر کے لیے چھت پر آتا سگریٹ ختم کرکے واپس نیچے چلا جاتا 
اکثر ایسا بھی ہوتا دونوں کی نظریں چار ہوتیں اور دونوں ہی ہلکی سی مسکراہٹ کے بعد ادھر ادھر مشغول ہو جاتےشاھد اورمہروکے گھروں کی چھت ساتھ ملتی تھیں جن کے درمیان صرف ایک چار فٹ کی دیوار حائل تھی ایک دن جب شاھدنےمہرو کی طرف دیکھا توشاھدنے بھی دیکھنے کے بعد اپنی نظریں مہروپر گاڑھ دیں وہ کافی وقت ایک دوسرے کو دیکھتے رہے پھر دونوں ہی مسکرا دیےمہروتو اچانک نیچے بیٹھ گئی البتہ شاھداسکے بلکل قریب دیوار کی دوسری طرف آ گیا پڑوسی ہونے کے ناطے نام تو وہ پہلے ہی ایک دوسرے کے جانتے تھےشاھد نےمہرو کو کافی آوازیں دیں لیکن وہ اپنی جگہ سے نہ اٹھ سکی
اس سے اگلے دن شاھد اسکے قریب آ گیا اور پوچھنے لگا کل میں نے تمہیں اتنی آوازیں دیں تھیں مجھے جواب کیوں نہیں دیا۔مہروشرما کر رہ گئی 
کچھ نہیں 
ایسی تو کوئی بات نہیں 
وہ شرماتے شرماتے بولی
یہاں سے انکی یہ دوریاں نزدیکیوں میں بدلتی گئیں 
یہ ایک مرتبہ چاند رات تھی جب شاھد نے اسے چھت کی اک سائیڈ میں آنے کا اشارہ کیا اور کہا میں تمہیں پیار کرنا چاہتا ہوں اسکے بدلے میں تمہیں دس ہزار روپے بھی دوں گا۔مہروکو پہلے تو کچھ سمجھ نہ آئی پھر غصہ بھی آیا لیکن کچھ سوچ کر اس نے حامی بھر لی اور کہا ٹھیک ہے سائیڈ میں آو
دراصل وہ اپنے لیے ایک سوٹ خریدنا چاہتی تھی عید کی شاپنگ تو وہ پہلے ہی کرچکی تھی لیکن بعد میں اسے ایک سوٹ بہت پسند آیا تھا اور وہ اس خوف سے اسے ہر حال میں خریدنا چاہتی تھی یہ نہ ہو کوئی اور لے جائے اور بعد میں وہ ہاتھ ملتی رہ جائےشاھد جب سائیڈمیں آیا تو مہرو پہلے سے وہاں موجود تھی جیب سے کچھ پیسے نکالتے ہوئے اس نےمہرو کی طرف بڑھائےمہرو ایک ہاتھ سے پیسے پکڑ رہی تھی کہ شاھد نے اسکا دوسرا ہاتھ بھی پکڑ لیا اور انتہائی پھرتی سے اسکی گردن پر بوسہ دے ڈالا اسکے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں بھرے اور گردن پر بوسہ دیتے دیتے پہلے دونوں گالوں پر بوسہ دیا پھر اسکے ہونٹوں میں اپنے ہونٹ ڈالتے ہوئے اسکے ہونٹ کاٹنے لگا
اسکے ہونٹوں کی گرمی مہروکی روح میں اترتی چلی گئی 
یہ دوسرا موقع تھا جب مہرو نے اپنی گردن پر مونچھوں کی چبھن محسوس کی وہ جلدی سےپیسےلے کر پلٹی اور گھر میں گھس گئی عید کےدن اس نے جیسے پاگلوں کی طرح گزارے وہ جب بھی ان مونچھوں کی چبھن کو محسوس کرتی اس کا رووا رووا کھڑا ہو جاتا اور عید کے چوتھے دن ہی اسکی برداشت جواب دے گئی اور 
وہ چھت پر چڑھ کرشاھد کا انتظار کرنے لگی جیسے ہی شاھد اسے چھت پر آتا دکھائی دیا وہ دیوار کے ساتھ لگ کر اسکی طرف دیکھنے لگی اور اشارے سے اسے سائیڈ پر بنے کمرےکی طرف بلا نےلگی 
آپ یہاں آہیں ہماری چھت پر اس نے ہلکے سے آواز دی اور خود نیچے چلی گئی جب واپس آئی تو اسکے ہاتھ میں پیک شدہ ایک نیا سوٹ تھا جبکہ شاھد انکی چھت پر بنے چھوٹے سے کمرے کی دہلیز پر کھڑا تھا
یہ سوٹ میں لائی تھی آپکی طرف سے اپنے لیے اس نےشاھد کو سوٹ دکھاتے ہوئے مسکرا کر کہا
ہاں بہت پیارا ہے لیکن پہنا تو تم نے ہے نہیں ابھی تک
ابھی پہن کر دکھاوں۔ وہ یہ کہہ کر اسکے جسم کو چھوتی ہوئی چھوٹے کمرے میں گھسی اورشاھد بھی ساتھ ہی اندر چلا گیا
وہ ہنستی ھوئی بولی نہیں ناں آپ تو باہر جائیں پہلے
نہیں نہیں میں آنکھیں بند کرتا ہوں تم یہیں پہن لو
وہ پھر ہنسی پکا آنکھیں کھولو گے تو نہیں 
پکا ۔۔شاھد نے آنکھیں بند کرتے ہوئے کہا 
مہرونے جلدی سے قمیض اتاری اور اس نئے سوٹ کی پیکنگ کھولنے لگی۔
شاھد میں نے قمیض اتاری ہوئی ہے آنکھیں نہیں کھولنا۔۔ اس سے پہلے مہروقیمض کو اپنی آستینوں پر چڑھاتی شاھدنے آنکھیں کھول دیں مہروجو اسی کی طرف دیکھ رہی تھی خود کو چھپانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے کہنے لگی آپ نے کیوں دیکھ لیا مجھے 
میں تمہیں دیکھے بنا نہیں رہ سکتا
میں تمہیں محسوس کرنا چاہتا ہوں
میں تمہارے اندر سمونا چاہتا ہوں.
میں تمہیں پیار کرنا چاھتا ھوں  
شاھد نے اسے بازو سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچتے ہوئے کہا اسے اپنے سینے کے ساتھ لگایا اور اپنا منہ مہروکی گردن پر ٹکا دیا۔مہرو کو گردن پر موچھیں جیسے ھی محسوس ھوئی مہرو مدھوش ھونے لگی تھی۔
شاھد کا ایک ہاتھ مہروکی کمر پر تھا دوسرا ہاتھ اسکے بالوں میں ڈالا گردن پر پیار کرتے کرتے اسکی چھاتی پر اپنی زبان پھیرنے لگاشاھد کی مونچھ مہروکے تن بدن میں لگی آگ کو بھڑکا رہی تھی اسی چبھن کی تو وہ پیاسی تھی ۔ شاھد کی قمیض کا اوپری بٹن کھلا ہوا تھے جس سے اسکی چھاتی کے کچھ بال نظر آرہے تھے مہرو نے اس کھلے بٹن سےشاھدکی چھاتی پر ہاتھ پھیرا 
شاھدنے جلدی سے باقی بٹن کھول کر قمیض اتار پھینکی شاھد نےمہروکو بھرپورجھپھی ماری اورپیچھے سے بریزیر کی ہک کھولی اور اسے اپنے ساتھ بھنچ لیا
اب وہ اسے پاگلوں کی طرح چوم چاٹ رہا تھا کبھی اسکے پستان چوستا کبھی نیچے ہو کر پیٹ پر زبان پھیرتاجبکہ وہ نشے میں چور اسکی ہر ہر حرکت کو اپنی روح کے اندر سمو رہی تھی 
اب کی بارشاھداسکے پیٹ پر زبان پھیرتے ہوئے بیٹھتا چلا گیا ناف تک پہنچتے پہنچتے اس نے مہرو کی شلوار نیچے کی طرف سرکائی جس پرمہرو نے ہلکا سا بھی احتجاج نہ کیاشاھد نے جیسے ہی اسکی گیلی ہوتی شبابی چوت پر زبان رکھی وہ جھرجھری لے کر رہ گئی 
یہ پہلا موقع تھا جب کسی نے چوت پرزبان رکھی تھی جہاں تک ممکن ہو سکتا شاھد اسکے اندر زبان ڈال کر اپنی زبان کو داہیں باہیں اوپر نیچے تیز تیز حرکت دے رہا تھا 
مہرو کو اپنا آپ نچڑتا محسوس ہوا وہ نیچے جھکی. شاھد کو بہت کمزور ہاتھوں سے اوپر اٹھانے کی کوشش کی شاھد اوپر اٹھامہرو کا ہاتھ پکڑ کر اپنی شلوار تک لے گیااورمہرو نے ہاتھ میں لن پکڑ کر محسوس کیا
یہ اسکے خاوند کی نسبت بڑا بھی تھا اور موٹا بھی زیادہ تھا اب کی بارشاھد نے اپنا ازاربند کھول کر شلوار نیچے گرا دی اورمہرو کے ہاتھ میں لن پکڑاتے ہوئے اسکے ہونٹوں کو کاٹنا شروع کردیا مہروہولے ہولے سے سسک رہی تھی شاھدکا نکلتا ہوا لیس دار مادہ جب اسکے ہاتھ پر لگا تو اس نے اسی پر مل کر پھیلا دیاشاھد نےمہرو کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر اسکے ہونٹ چھوڑے اسے نیچے کی طرف دبایا تھوڑا سا نیچے ہوئی اورشاھد کی چھاتی پر پیار دینے لگی اب کی بار شاھد نے اسے مزید سختی سے دبایا تاکہ وہ نیچے بیٹھ کر اسکالن چاٹ سکےمہرو نیچے کو جھک تو گئی لیکن شاھد کی ناف تک پہنچتے پہنچتے ایک دم گھوم گئی مہروکی دوسری طرف چارپائی پڑی تھی جس کے اوپر بستر اور دوسرا سامان ایک چادر میں ڈھکا پڑا تھا جوکہ کافی اونچائی تک چلا گیا تھا مہرو کے بھاری چوتڑشاھد کے سامنے تھےشاھد نے اپنا لیس دار مادہ چھوڑتا اکڑتا لن مہرو کی چمکتی چوت کے اوپر ٹکایا اورمہروکے دونوں کندھوں پر ہاتھ رکھ کر انتہائی آہستگی سے اسے اپنی طرف کھینچنا شروع کیا وہ جیسے جیسےمہرو کو اپنی طرف کھینچ رہا تھامہروکی چوت کی پنکھڑیاں چرتی ہوئی شاھد کے شبابی لن کو اپنے اندر جگہ دیے جا رہی تھیں حتی کےشاھد کا پورے کا پورا لن اندر تک چلا گیا دونوں کے بدن فضا میں گرمی اور ہوس سے بھرپور مشک بکھیر رہے تھے وہیں ان کے جوبن اپنی گرمی ایک 
دوسرے کے اوپر انڈیل رہے تھےشاھد نے پورا اندر ڈال لینے کے بعد اسے کچھ دیر وہیں چھوڑا پھر اسی آہستگی کے ساتھ واپس باہر نکالا جس آہستگی سے اندر ڈالا تھا 
مہرو نے اپنا جسم سر سے اونچی ہوتی سامان سے لدی چارپائی پر بلکل ڈھیلا چھوڑ رکھا تھا اب کی بار شاھد نے اپنا ہاتھ اسکی چوت کی پنکھڑیوں کے اوپر مہکتے دانے پر گھمایا اور بجلی کی سی تیزی سے پورے کا پورالن اندر گھسا دیا مہرو اس کے لیے بلکل بھی تیار نہیں تھی جس آہستگی سےشاھدنے ایک بار اندر باہر کیا تھامہروکے وہم و گمان میں بھی نہیں تھی اگلی بار یہ لن شدید جھٹکے میں اندر آئے گا بے ساختہ اسکے منہ سے چیخ بلند ہوئی  
شاھد نے مہرو کو بلکل بھی موقع نہیں دیا کہ وہ اپنے جسم کو سکیڑ کر سخت کر سکے تاکہ اسے جھٹکوں کی شدت سہنے میں آسانی ہو سکےاسی اثنا میں شاھدنے مہرو کے بالوں کو زور سے پکڑا اور اسی شدت سے اسے جھٹکے مارنےلگا جتنی شدت سے اس نے جھٹکا مارا تھا۔مہرو لاکھ کوشش کے باوجود بھی اپنے وجود پر کنٹرول نہیں رکھ پارہی تھی 
کیونکہ ہر جھٹکا پہلے کی نسبت شدید تر ہوتاشاید مہروسے صرف اتنا ہو پایا کہ اس نے سامان کے اوپر چادر میں اپنی مٹھیاں بھنچ لیں اسے خوف بھی تھا اور کوشش کر رہی تھی اسکی آواز اتنی بلند نہ ہو کہ اڑوس پڑوس میں کسی اور کے کانوں سے جا ٹکرائے  
پھر ایک آخری شدید تر جھٹکے کے بعد اسکے جسم کے اوپر مزید جھٹکے اچانک بند ہو گئےشاھدنے اسے اپنے پورے زور کے ساتھ دبا لیا تھا اور اب کی بار اسکے اندر جھٹکے لگ رہے تھے شاھد کے لن کو مہرو کی چوت نے کس کر پکڑ لیا تھا جس کی وجہ سے مہرو سے مزید مزے لینا مشکل ھو گیا اور اس کے ساتھ ہی وہ بھی بلکل نچڑ کر رہ گئی ۔مہرو نے اپنا جسم بلکل ڈھیلا چھوڑ دیا اپنے بازو نیچے کی طرف لڑھکا دیے اور ایک لمبی آہ بھر کر زور زور سے سانس لینے لگی۔ شاھد نے مہرو کی گردن سے بالوں کو ھٹایا اور گردن کی قس کرتے ھوئے مہرو کی چوت کے اندر زور زور سے جھٹکے لگانے لگا اور کچھ ھی دیر میں اپنے گرما گرم لاوے سے مہرو کی چوت کو سکون پہچانے لگا فارغ ھو نےکے بعد مہرواور شاھد اک دوسرے کے گلے چمٹ کر خوب چومنے لگے اسکے بعد بھی شاھد اور مہرو نساء بہت بار ایک دوسرے کیساتھ سیکس ملاپ کرتے رھتے ہیں ۔ مہرو کی اسکے خاوند سے ایک بیٹی اور شاھد کی محبت کی نشانی ایک بیٹا ھے دونوں موقع دیکھ کر ابھی بھی ملتے ھیں۔ مہرو اپنی زندگی میں بھت خوش ھے ۔
ختم شدﺍﯾﺴﯽ ﻟﮍﮐﯿﺎﮞ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﺟﻮ ﺧﻔﯿﮧ ﺗﻌﻠﻘﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺩﻟﭽﺴﭙﯽ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﮨﯿﮟ
ﺍﭘﻨﮯ ﺟﺴﻢ ﮐﯽ ﺁﮒ ﮐﻮ ﮨﺮ ﻃﺮﺡ ﺳﮯ ﭨﮭﻨﮉﺍ ﮐﺮﻭﺍﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﻣﮑﻤﻞ ﺭﺍﺯﺩﺍﺭﯼ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺗﻮ ﺑﻼ ﺟﺠﻬﮏ WhatsApp ﻣﯿﮟ ﺭﺍﺑﻄﮧ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﺭﺍﺯﺩﺍﺭﯼ ﮐﯽ ﮨﺮ ﻃﺮﺡ ﺳﮯ ﮔﺮﺍﻧﭩﯽ ﮨﮯ
ﺻﺮﻑ ﭘﯿﺎﺳﯽ ﻋﻮﺭﺗﯿﮟ
WhatsApp number 
+923215369690

Post a Comment

0 Comments

Comments