یاسمین کی سچی اب بیتی

یاسمین کی سچی اب بیتی

خاوند کے ایک بار پھر منسٹر سے چودانا

دو ھفتے بعد خاوند نے دفتر سے فون کیا اور بہت خوش تھا اور کہا رانی مبارک ھو قطر کی ایپرول اگیا۔ اور مجھے کہا کہ سب آپکی محنت کانتیجہ ھے۔ پھر شام کو دفتر سے آتے وقت میری پسند کی برفی اور خوبصورت لش گرین ساڑھی بھی لاکر دی۔ آتے ھی مجھے لیپ کسنگ کی اور بہت خوش تھا۔ پھر میں نے پوچھا جانا کب ھے۔ کہنے لگا کہ بس پیپرز کی تیاری میں ھفتہ دس دن لگیں گے۔ اور پوزیشن بھی بہت اچھی ملی مطلب کہ پروموشن بھی ھوگی۔ میں بھی بہت خوش ھوی۔ پھرکہا کہ میں جاکر 2 ماہ کر اندر کو بولوں گا۔ بس پھر ادھر مزے سےرہیں۔ اس وقت تک ھمار کوی بچہ نہی تھا۔ بس دونوں تھے۔ مجھے بھی خوشی ھوی۔ پھر رات کو جب سکس کرنے لگے تو مجھے کہا کہ رانی اس منسٹر صاحب کا شکریہ ادا کرنے جائیں گے۔ میں نے کہا ٹھیک ھے۔ میں نے پوچھا اپکا باس کدھر ھے۔ کہا وہ باس چلا گیا اسکی جگہ دوسرا سیکرٹری آگیا ھے۔ لیکن ھم منسٹر صاحب سے ملنا ھے۔ مجھے سے پوچھا کہ اچھا بندہ ھے نا؟ میں نے کہا جی بلکل۔۔۔۔

خاوند جانے کے تیاری میں مصروف تھا اور میں ساتھ ساتھ شاپنگ کرتے وقت موجود ھوتی تھی یوں 20 دن تیاری میں گزرے۔ تیسرے ھفتے میں خاوند نے کہا کہ اب بس 5 دن جانے میں رہ گئے کیا خیال ھے منسٹر صاحب سے ٹایم لیں ملاقات کرنے کی۔ تو میں نے جیسے مناسب سمجھتے ھو۔ اس نے کہا ٹھیک ھے۔ منسٹر صاحب نے اپنا پرسنل نمبر دیا تھا اس وقت نمبر ملانے کی ٹرائی اس نے نمبر نہیں اٹھایا۔ رات 11 بجے منسٹر صاحب کا فون ایا اور خاوند سے بات کی۔خاوند نے کہا آپکے بیت شکریہ آپ نے میری ہیلپ کی اور میری پوسٹنگ میں مدد کی۔ منسٹر صاحب نے کہا ایسی کوئی بات نہیں یہ اپکا کا حق ھے۔ پھر خاوند نے کہا کہ آپ سے ملاقات کرنا چاہتا ھوں ۔۔ملاقات ھوسکتی ھے کیا؟ منسٹر صاحب کہ ضرور آجائیں۔ پھر میرے خاوند نے کہا کہ میری رانی بھی آپ سے بات کرنا چاہتا ھے۔ اس نے کہا ضرور ۔۔۔۔پھر خاوند نے مجھے فون دیا۔۔۔میں ھاتھ کے اشارے سے خاوند سے پوچھا کہ میں کیا بات کروں۔۔۔۔خاوند نے آہستہ سے کہا بات کرو شکریہ ادا کرو۔ میں نے فون کیا اور منسٹر صاحب کو سلام کیا۔ پوچھا سر آپ کیسے ھے۔ اور ساتھ ساتھ کہا سر اپکا بہت شکریہ کہ میرے خاوند کا کام ھوا۔ باہر جانے کا۔ منسٹر صاحب نے کہا نہیں اسمیں شکریے کا کوئی بات نہیں یہ تو آپکے خاوند کا حق ھے۔ اسکے علاوہ تو سارا کریڈٹ اپکو جاتا ھے۔ آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔ پھر کہا کہ رانی جب بھی چاہو ضرور او۔ آنے سے پہلے مجھے آپنے پرسنل نمبر پر کال کیا کرو۔ ملاقات کرینگے۔ میں نے کہا ضرور۔۔۔پھر موبائل خاوند کو دیا۔ خاوند نے کہا کہ آپکے ساتھ ملاقات کرنے رانی بھی میری ساتھ اے گی۔۔۔منسٹر صاحب نے کہا۔ ویلکم ویلکم۔۔۔منسٹر صاحب نے کہا پھر میں ڈنر پر آپ دونوں کو دعوت دیتا ھوں اتوار کےرات 10 بجے کلب میں ملاقات کرینگے۔ ۔ خاوند نے کہا سر ٹھیک ھے۔۔۔۔اس دن بدھ تھا۔ پھر موبائل بند ھونے کے بعد خاوند نے کہا رانی ٹھیک ھے۔ میں نے کہا بلکل ٹھیک ھے۔

ھفتہ کے دن خاوند نے کہا کہ آج شام کو جانا ھے۔ پارلر جاکر تیاری کرلو۔ خاوند نے خود مجھے پارلر ڈراپ کیا اور کہا کہ 3 گھنٹے بعد پک کرنے اونگا۔ اسلیے کہ پارلر والوں نے کہا 3 سے ساڑھے تین گھنٹے لگ سکتے ھے۔ خاوند نے کہا چوڑیدار پاجامہ پہن لو ساتھ سلیو لیس لش گرین شرٹ پہن لینا یوں ساڑھے دس بجے پارلر سے تیار ھوکر کلب روانہ ھوے۔ راستے میں منسٹر صاحب کی کال آئی۔ پوچھا کیا پروگرام ھے؟ خاوند نے کہا راستے میں ھے منسٹر صاحب نے کہا روم نمبر 11 آنے کو کہا۔۔۔۔
خاوند نے پہلے سے منسٹر صاحب کو کیک اور پرفیوم اور ایک اورکوٹ کی خریداری کی تھی۔ یوں ھم پونے گیارہ بجے کلب پہنچ گئے۔ گاڑی پارکنگ کرتے وقت خاوند نے منسٹر صاحب کو کال کی کہ ھم پہنچ گیے۔ منسٹر صاحب نے کہا کہ آجاو میں روم میں ہوں۔ ھم روم نمبر 11 پہنچ گئے تو دروازہ ہلکا سے کھلا تھا تو ھم اندر گئے۔ سلام کیا منسٹر صاحب گرم چوشی سے ملا۔ پھر صوفے پر بیٹھ گئے خاوند نے گفٹس منسٹر صاحب کو دیے اور شکریہ ادا کیا۔ اس نے میرے طرف دیکھا کہ۔میں تو رانی کا شکریہ ادا کرونگا کہ اتنی حسین خوبصورت رانی نے مجھے خوش کردیا۔ میرے خاوند نے کہا کہ سر آپ ج بھی حکم دینگے رانی حاضر ھوگی۔ منسٹر صاحب نے ایگزیکٹلی۔۔۔۔اور تینکس بولا۔۔۔
فروٹ کولڈ ڈرنگس پہلے سے ٹیبل پر پڑے تھے۔ منسٹر صاحب نے مجھے مخاطب ھوکر کہا کہ رانی آپ لیے لیں آپ تو ھماری خاص مہمان ھے۔ پھر میری خوبصورتی اور کپڑوں کی تعریف شروع کرنے لگا اور کہا مجھے ایسا لباس بہت اچھا لگتا ھے۔ ادھ گھنٹے تک گپ شپ لگی۔ پھر خاوند آٹھ گئے اور کہا کہ سر میرا تھوڑا کام ھے میں تھوڑی دیر میں آتا ھوں آپ لوگ گپ شپ لگائیں۔۔وہ باہر چلا گیا۔ تو منسٹر صاحب میرے پاس قریب اگر بیٹھ گیا اور کہنے لگا آپکے خاوند کا شکریہ کہ ایک بار پھر رانی میرے بانہوں میں دی۔ پھر مجھے اپنے اور نزدیک کیا۔ اور لپ کس کی۔ اور ساتھ شانوں اور کمر پر ھاتھ پھیرنے لگا ۔۔۔کبھی بالوں میں کبھی مموں پر اور کبھی پنڈلی پر۔
جس وقت خاوند اور منسٹر پینے لگے تو منسٹر صاحب نے مجھ سے پوچھا آپ لینگی؟ میں خاموش رہی۔۔خاوند نے کہا سر ھمارے دیے گی اورمجھے کس کیا اور کہا کہ ٹھیک ھے نا رانی۔؟؟ پھر بہت تھوڑا سا مجھے پلایا۔ جس سے میرا سر بھاری ھونے لگا۔ لیکن خاوند نے کہا تھوڑا گرین ٹی پی لو۔ پھر مجھے پتہ نہیں چلا صبح جس وقت آنکھ کھلی تو دن کے 11 بج چکے تھے۔ اب بھی میرا سر بھاری بھاری تھا۔ جب میں نے کمرے کا جائزہ لیا تو میں بیڈ کے درمیان میں تھی ایک طرف خاوند اور دوسرے طرف منسٹر صاحب تھے ھم سب ننگے تھے۔ منسٹر صاحب کا بیک میرے طرف جبکہ میرا منہ خاوند کی طرف تھا۔ میں اٹھ کر واشروم گیئ اپنے اپکو فر یش کیا۔ ھاتھ منہ دھویا۔ باہر آکر کمرہ تھوڑا صاف کیا بوتل میں تھوڑا سا رہ گیا تھا اسکو فریج میں رکھا ڈرائ فروٹ کے چھلکے وغیرہ ھٹا دیے۔ اس وقت منسٹر صاحب بھی تقریبآ جاگ گیے تھے۔ میرے طرف دیکھا اور مسکراے میں صوفے سے اٹھی منسٹر صاحب کے طرف گیئ۔ مجھے کس کیا میرے مموں پر ھاتھ پھیرنے لگا۔ اس وقت میں ننگی تھی میں کپڑے پہنے کی موڈ میں تھی۔ لیکن منسٹر صاحب کہنے لگے اس پر بیھٹو۔ وہ سیدھا ھوگیا اور ھاتوں سے اسکے لن کو کھڑا کیا تو میں اس پر بیٹھ گی۔ اوپر نیچے ھونے لگی تو 5 ، 7 منٹ میں فارغ ھوئ لیکن منسٹر صاحب نہیں ھوے۔ اور کہا کرتی رہو۔یں زور زور سے اٹھنے بیٹھنے لگی جس سے خاوند بھی جاگ گیا اور میری طرف دیکھا۔ تھوڑی دیر میں منسٹر صاحب فارغ ھوے۔میں اٹھی واشروم گی پھر اپنے اپکو دھویا۔ باہر نکل کر کپڑے پہننے لگی۔ اتنے میں خاوند بھی واشروم گیا پھر منسٹر صاحب۔۔۔ انہوں نے بھی کپڑے پہن لیے اور منسٹر صاحب نے ناشتے کا آرڈر دیا اور اپنے 5 موبائل جو رات کو بند کیے تھے ان کردیا۔ ایک موبائل ان تھا جس پر بار بار فون ارہا تھا۔ جو کہ اسکے گھر سے کال تھی۔ ناشتے کے بعد جب ھونے لگے تو منسٹر صاحب نے مجھے کہ رانی میں نے کوئی گفٹ نہیں دی ھے۔ اسلیے اس نے 5 ھزار دیے جو میں نہیں لینا چاھیتی اس نے مجھے زور سے دیا اور پھر بھی ملینگے۔ اور مجھے گلے لگایا اور کس کیا خدا خافظ کہا اور میرے خاوند کا شکریہ ادا کیا اور کہا جو بھی کام ھو ضرور کال کیا کرو۔ اور یوں ھم گھر روانہ ھوے
دوسرے ھفتے خاوند قطر روانہ ھوگیا اور مجھے کہا کہ 2 ماہ کے اندر اندر آپ میرے پاس اوگی۔ بس آپ تیاری شروع کرو۔ پھر ایک ماہ اور 20 دن بعد مجھے بلایا۔ جاتے وقت میں پریکنینسی ٹیسٹ کی تو پازیٹو تھی مطلب کے میں پریگنینٹ تھی۔ مطلب کوئی 10 دن زیادہ ھوگے۔ یوں میں ایک ماہ 20 دن کے بعد قطر خاوند کے پاس روانہ ھوے۔
یوں د ن ھفتوں اور مہینوں میں بدلنے لگے پہلے دو ماہ بعد اور پھر ھر ماہ بعد ڈاکٹر سے چیک اپ کرنی لگی۔ پھر خاوند نے کہا کہ کیا ڈلیوری یہاں کرنی ھے یا پاکستان جانا ھے۔ بہرحال فیصلہ یہی ھوا اور حماد انٹر نیشنل ھسپتال میں اللہ نے ھمیں پیاری سی بچی عطا کی۔ ھم دونوں بے انتہا خوشی تھے۔ﺍﯾﺴﯽ ﻟﮍﮐﯿﺎﮞ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﺟﻮ ﺧﻔﯿﮧ ﺗﻌﻠﻘﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺩﻟﭽﺴﭙﯽ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﮨﯿﮟ
ﺍﭘﻨﮯ ﺟﺴﻢ ﮐﯽ ﺁﮒ ﮐﻮ ﮨﺮ ﻃﺮﺡ ﺳﮯ ﭨﮭﻨﮉﺍ ﮐﺮﻭﺍﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﻣﮑﻤﻞ ﺭﺍﺯﺩﺍﺭﯼ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺗﻮ ﺑﻼ ﺟﺠﻬﮏ WhatsApp ﻣﯿﮟ ﺭﺍﺑﻄﮧ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﺭﺍﺯﺩﺍﺭﯼ ﮐﯽ ﮨﺮ ﻃﺮﺡ ﺳﮯ ﮔﺮﺍﻧﭩﯽ ﮨﮯ
ﺻﺮﻑ ﭘﯿﺎﺳﯽ ﻋﻮﺭﺗﯿﮟ
WhatsApp number 
+923215369690

Post a Comment

0 Comments

Comments