شریف بہن نے پکڑابھائیوں کو آپس میں سیکس کرتے اور پھر..بہن بھائی سیکس کہانی قسط 44,45

شریف بہن نے پکڑابھائیوں کو آپس میں سیکس کرتے اور پھر..
بہن بھائی سیکس کہانی 
قسط 44,45

واؤ بھائی مووی بنائی ہے آپ نے ساری۔۔۔۔ لیکن میں نے

اسے کوئی جواب نہیں دیا اور چپ چاپ پڑا رہا۔۔۔ مجھے اپنے آپ پر شدید غصہ آرہا تھا

کہ میں نے اپنی پیاری سی پھول جیسی بہنا کو اتنار لایا۔۔۔۔ کیا تھا اگر میں اپنے اوپر کنٹرول کر لیتا تو یہ سب نا ہوتا۔۔۔۔ لیکن میں بھی کیا کر سکتا تھا اس وقت میرا ذہن کچھ سوچنے سمجھنے کے قابل ہی نہیں رہا تھا۔۔۔ میں ایسے ہی متضاد سوچوں سے لڑ رہا تھا کہ آہستہ آہستہ بیڈ کے ملنے سے میرے خیالات کا سلسلہ ٹوٹا اور میں نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو ناظم کمرہ ہاتھ میں پکڑے ہماری اپنی مووی دیکھتے ہوئے مٹھ مار رہا تھا۔۔۔ میں

ایک دم چڑ گیا اور اسی چڑ چڑے پن میں بولا۔۔۔ ناظم یہ کیا چوت مداری ہے

تیری۔۔۔۔ جا اٹھ کے واش روم میں جاکے مٹھ مار اور سونے دے مجھے۔۔۔۔ میرے لہجے کو دیکھ کر نا ظم سہم کر اٹھتے ہوئے بولا ،،،، سوری بھائی جان،،،، میں جارہا ہوں آپ آرام سے سو جائیں۔۔۔ اور یہ کہہ کر وہ واش روم کی طرف چلا گیا۔۔۔ ناظم کے جاتے ہی میں نے دوبارہ اپنی آنکھیں بند کر لیں۔۔۔۔ میرا ذہن بہت الجھا ہوا تھا۔۔۔۔ آپی کے رونے کی وجہ سے دل پر عجیب سا بوجھ طاری تھا۔۔۔۔ پھر انہی سوچوں سے لڑتے

جھگڑتے جانے کب نیند آگئی۔۔۔۔اپنی گردن پر شدید تکلیف کے احساس سے میرے منہ سے درد بھری سسکی نکل گئی اور میرے ہاتھ ساختہ گردن کی طرف اٹھے اور بالوں کے ایک گچھے میں الجھ گئے۔۔۔ میں نے ہڑ بڑا کر اپنی آنکھ کھولی تو ایک جسم کو اپنے اوپر جھکا پایا۔۔۔۔

وہ جسم میرے اوپر بیٹھا تھا اور اس نے اپنے دانت ایسے میری گردن میں گڑ رکھے تھے

کہ جیسے خون پینا چاہتا ہوں۔ میں نے اس کے سر کے بالوں کو جھکڑا اور ذرا طاقت سے اوپر کی طرف کھینچا تو میری نظر اس کے چہرے پر پڑی۔۔۔۔ وہ چہرہ تو میری بڑی بہن کا ہی تھا لیکن ان کی حالت بہت عجیب ہو رہی تھی۔۔۔۔ بکھرے بال اور لال سرخ چہرہ ۔۔۔ آنکھوں کی رنگت ایسی ہو رہی تھی کہ جیسے ان میں خون اتر آیا ہو۔۔۔۔ میری نیند مکمل طور پر غائب ہو چکی تھی۔۔۔۔ اور آپی کے بالوں پر میری گرفت بھی خود بخود کمزور ہو گئی۔۔۔ جسے محسوس کرتے ہوئے آپی نے اپنے سر پر رکھے ہوئے میرے ہاتھ کو کلائی سے پکڑا اور ایک جھٹکے سے اپنے بال چھڑاتے ہوئے سیدھی ہو ئیں تو میری نظر ان کے جسم پر پڑی۔۔۔۔ آپی اس وقت فل ننگی تھیں۔۔۔۔ ان کے بڑے بڑے ممے

اور ان پر اکڑے ہوئے گلابی نپلز کچھ زیادہ ہی تنے ہوئے محسوس ہو رہے تھے۔۔۔۔ مجھے مکمل ہوش میں آتے دیکھ کر میری رانوں پر سے آپی نے اپنا وزن ہٹایااور ایک سائیڈ پر ہو کر میرے سکڑے ہوئے ہوئے لن کو اپنے ہاتھ میں کھینچا۔۔۔۔ اور تنویمی لہجے میں بولیں۔۔۔۔ اٹھو سا گر جلدی۔۔۔۔۔ آپی کی آواز جیسے کسی گہرے کنویں میں سے آرہی تھی۔۔۔۔ اپنے لن پر پڑنے والے کھنچاؤ کے تحت مجھے ایک جھٹکا لگا اور میں فوراً اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔ آپی نے میرا لن ہاتھ سے نہیں چھوڑا اور اسی طرح چل پڑیں۔ اور میں بے اختیار آپی کے پیچھے کھنچا چلا گیا۔۔۔ جب آپی نے میرے لن کو پکڑے ہوئے کمرے کی دہلیز پار کرنے کی کوشش کی تو میں نے اپنی زبان کھولی۔۔۔

یار آپی کہاں لے جارہی ہو۔۔۔ کچھ بولو تو ۔۔۔۔ آپی نے رک کر میری طرف دیکھا اور اسی طرح بھاری لہجے میں بولیں۔۔۔۔ سٹڈی روم میں۔ یہ کہہ کر آپی نے پھر چلنا شروع کر دیا۔۔۔ اور میں پھر کھنچتا ہوا پیچھے چلنے لگا۔ سیڑھیوں کے پاس میرے پاؤں میں کوئی کپڑا الجھا اور میں نے گرتے گرتے سنبھل کر دیکھا تو آپی کی قمیض تھی۔۔ مطلب آپی نے سیڑھیاں چڑھتے ہوئے آپی قمیض اتاری ہو گی اور اوپر پہنچ کر گردن سے نکال پھینکی ہو گی۔۔۔۔ میرے لڑکھڑانے پر بھی آپی رکی نہیں اور میں پھر سے سنبھل کر ان کے پیچھے چلتا ہو اسٹڈی روم میں داخل ہو گیا۔۔۔ کمرے میں داخل ہو کر دروازے کے پاس میرے بلکل سامنے کھڑے ہو کر آپی نے میرے لن کو چھوڑا اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر
میرے سینے پر پھیرنے لگیں۔۔۔۔ آپی نے تین چار بار اوپر سے نیچے اور نیچے سے اوپر میرے سینے کو سہلاتے ہوئے ہاتھ پھیرے۔۔۔ اور پھر دونوں ہتھیلیاں گردن سے تھوڑا نیچے رکھ کر مجھے دھکا دیا اور مڑ کر دروازہ لاک کر دیا۔۔۔۔ آپی کے دھکے سے میں لڑکھڑاتا ہوا دو قدم پیچھے ہٹ گیا۔۔ آپی دروازہ لاک کر کے گھر میں اور اپنی لال انگارہ آنکھوں سے مجھے گھورنے لگیں۔۔۔ یکا یک آپی کہ لال سرخ آنکھوں میں ایک چمک پیدا ہوئی اور وہ کسی شیرنی کے سے انداز میں مجھ پر جھپٹ پڑیں۔۔۔ میں آپی کے اس غیر متوقع حملے کے لیے تیار نہیں تھا۔۔۔ اس لیے آپی کے جسم کو اپنے اوپر لیے میں پیچھے کی جانب گر پڑا اور آپی میرے اوپر آن پڑیں۔۔۔ فرش پر دبیز کارپٹ ہونے کیوجہ سے مجھے چوٹ تو نہیں لگی۔ لیکن آپی جیسے آج ہر چیز سے بے پرواہ تھیں۔ میں جھٹکے سے نیچے گرا تھا جس کی وجہ سے میرا لن بھی جھٹکا کھا کر اوپر پیٹ کی جانب اٹھا تھا عین اسی لمحے آپی میرے اوپر بیٹھیں تو میرے لن کا نچلا حصہ مکمل طور پر آپی کی چوت کی لکیر میں سیٹ ہو گیا اور میری کمر زمین پر ٹک گئی۔۔۔۔ آپی اسی انداز میں میرے لن پر بیٹھے ہوئے آگے جھکیں اور اپنے ممے میرے سینے پر دبا کر میری گردن کو چاٹنے اور کاٹنے

لگیں۔۔۔۔مجھے تکلیف کا احساس تو ہوا لیکن حیرت انگیز طور پر اس تکلیف کے باوجود میر الن آپی کے نیچے دبے ہوئے بھی سخت ہو نا شروع ہو گیا۔۔۔۔ آپی نے دانتوں سے کاٹنے کے ساتھ ساتھ اب میرے کندھوں، بازوؤں، سینے غرض کہ ہر جگہ پر نو چنا شروع کر دیا تھا اور اپنے تیز ناخنوں سے خراشیں ڈالتی جارہی تھیں۔۔۔ میں نے آپی کو اپنے اوپر سے ہٹانے کی کوشش نہیں کی۔۔ یہ اذیت، یہ تکلیف جیسے میرے اندر بجلی سی بھرتی جارہی تھی۔ اور میرا انداز بھی وحشیانہ ہوتا چلا گیا۔۔۔ میں نے بھی اپنے دونوں ہاتھ آپی کی کمر پر رکھے اور اپنے ناخن ان کے نرم و نازک بدن میں گاڑھ دیے۔۔۔۔ آپی نے فوراً میری گردن سے اپنا منہ ہٹایا اور ان کے منہ سے ایک اذیت اور لذت سے ملی جھلی ایک کراہ نکلی۔۔۔۔ اف فقف فف۔۔۔ میں نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا اور اپنا ہاتھ آپی کی گردن پر رکھا اور گردن جھکڑتے ہوئے ان کو تھوڑا اور اوپر اٹھا دیا۔۔۔۔ آپی کے ممے میرے سامنے آگئے۔۔۔ میں نے ایک لحمہ بھی ضائع کیے بغیر ان کا حمہ منہ میں لیکر

چوسنے لگا۔۔۔ آپی نے اپنے ہاتھ سے میرے سر کے بالوں کو جھکڑ لیا اور میرے منہ کو

اپنے مموں پر دبانے لگیں۔۔۔۔ میرا لن مکمل طور پر کھڑا ہو چکا تھا لیکن وہ اوپر کی طرف پیٹ کے ساتھ جڑ کر آپی کی پھدی کی لکیر میں بیٹھا ہوا تھا۔۔۔۔ آپی کی پھدی سے نکلتے ہوئے گرم اور گاڑھے پانی سے میرا لن تر ہو رہا تھا اس لیے آپی کے ملنے سے ان کی
چوت میرے لن پر پھسل پھسل جاتی۔۔۔

اچھی طرح سے آپی کے ممے چوسنے اور کاٹنے کے بعد میں نے آپی کے مموں سے منہ

ہٹایا اور آپی کو دوبارہ اپنے اوپر گراتے ہوئے ان کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔۔۔۔ پھر اپنے دونوں ہاتھ کمر پر پھیر تا ہوا نیچے لے گیا اور اپنی بہن کے دونوں چوتڑوں کو دبوچ کر مخالف سمتوں میں پوری طاقت سے ایسے کھینچا جیسے درمیان میں سے چیر دینا چاہتا ہوں۔۔۔ آہ ساگر۔۔۔ آپی نے ایک چیخ نما سیسکی بھری اور تڑپ کر اوپر کو اٹھیں۔ آپی نے اپنا اوپری دھڑ او پر اٹھا لیا لیکن نچلے دھڑ کو ہلا بھی نہ سکیں کیونکہ وہ میں نے پوری طاقت سے چوتڑوں سے پکڑ کر چیرتے ہوئے دبایا ہوا تھا۔۔ آپی نے اپنا جسم اٹھانے کیلئے مستقل زور لگاتے ہوئے کراہتی آواز میں کہا۔۔۔۔۔ پلیز ساگر رررر بہت درد ہو رہی ہے۔۔۔۔ میں نے اپنی گرفت تھوڑی لوز کی تو آپی نے اپنا نچلا دھڑ اوپر کو اٹھایا۔۔ ساتھ ہی ان کی چوت کے نیچے دبا ہوا لن بھی چوت سے رگڑ کھاتا ہو اسیدھا ہو گیا۔۔۔ میرے لن کی نوک آپی کی چوت پر دو سیکنڈ کور کی اور ساتھ ہی میں نے آپی کے چوتڑوں کو نیچے کی طرف دبایا تو اگلے ہی لمحے میرے لن کی ٹوپی آپی کی چوت میں اتر

گئی۔۔۔۔کہا۔۔۔ ہوں۔۔۔۔۔ آپ اپنی ٹانگیں تھوڑی کھول کر اوپر کی طرف اٹھالو۔۔۔ تو آپی نے میری بات سن کر اپنی ٹانگیں تھوڑی اوپر اٹھا کر جتنا کھول سکتی تھیں کھول لیں۔۔۔۔ میں نے پھدی سے انگلیاں نکالی اور نیچے ہوتے ہوئے اپنی پوری زبان باہر نکال کر آپی کی گانڈ کی طرف سے زبان پھیری اور اوپر پھدی کے دانے تک ایک چاٹا لگایا۔۔۔۔ آپی کا جسم لرز اٹھا۔۔۔ پھر میں سیدھا ہو کر آگے بڑھا اور اپنا لن ہاتھ میں پکڑ کر آپی کی پھدی کے سوراخ پر رکھا اور ہلکا سا دباؤ ڈالا تو آپی کے منہ سے ایک سسکی نکل گئی۔۔۔ اور آپی نے اپنی آنکھیں کھولتے ہوئے میری طرف دیکھا اور اپنے دونوں ہاتھوں کو کارپٹ میں گاڑھ دیا۔ اور پوری طاقت سے کارپٹ کو جھکڑ لیا۔۔۔۔ میں نے

آہستہ سی آواز میں پکارا۔۔۔۔ میری سوہنی اور سیکسی بہنا کیا آپ اس کیلئے تیار

ہو۔۔۔۔۔ تو آپی نے آنکھوں کے اشارے سے ہاں میں جواب دیا۔۔۔ میں نے لن پر دباؤ بڑھانا شروع کیا اور آپی کے چہرے پر لذت اور ڈر کی ملی جلی کیفیت نظر

آئی۔۔۔۔ میرا لن آپی کہ پھدی میں آگے سرکتا ہوا دو انچ تک چلا گیا۔۔۔۔ اب آگے مجھے رکاوٹ محسوس ہوئی جیسے کسی دیوار سے ٹکرا کر میرا لن رک گیا ہو۔۔۔۔ میں نے اتنالن ہی اندر باہر کرنا شروع کر دیا۔۔۔ آپی کے جسم میں بلکا سا لرزہ طاری تھا۔۔۔جیسے ہی میرے لن کی ٹوپی آپی کی چوت کے اندر گئی تو اسے محسوس کرتے ہی آپی کے منہ سے ایک لذت بھری آہ آہ نکلی۔۔۔ اور انہوں نے اپنی آنکھیں بند کرتے ہوئے گردن پیچھے کو ڈھلکا دی۔۔۔۔ اس کے ساتھ ہی سکوت چھا گیا۔۔۔ طوفانِ بد تمیزی جیسے تھم سا گیا ہو۔۔۔۔

میں نے آہستگی سے آپی کے چوتڑوں کو چھوڑا اور اپنے ہاتھ ان کے جسم سے چپکائے ہوئے ہی دھیرے سے آپی کی کمر پر لے آیا اور آپی نے بھی ایک بے خودی کے عالم میں اپنے دونوں ہاتھ میرے کندھوں پر رکھ دیے۔۔۔ نشاط کے چند لمحے یوں ہی گزر گئے۔ پھر آپی نے اپنی گردن سیدھی کی اور بڑی دھیمی سی آواز میں بولیں۔ ساگر مجھے لٹا دو نیچے ۔۔۔۔۔ میں نے بڑے پیار سے آپی کو اپنے اوپر سے اٹھایا اور لن باہر نکال کر آپی کو نیچے لٹا کر ان کی ٹانگوں کے درمیان میں آگیا۔۔۔۔ آپی کی پھدی کے ہونٹ سوجے ہوئے لگ رہے تھے۔۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ آپی کافی دیر سے اپنی پھدی کو مسل رہی تھیں۔۔۔۔ میں نے بڑے پیار سے اپنی دو انگلیاں آپی کی پھدی میں ڈال کر آگے پیچھے کرتے ہوئے پکارا۔۔۔ آپی۔۔۔۔۔ تو انہوں نے آنکھیں کھولے بغیر ہی
میں نے اپنے ہاتھوں سے آپی کے چہرے کو مضبوطی سے تھام کر اپنے ہونٹوں سے آپی

کے ہونٹوں کو قابو کیا اور لن اندر باہر کرتے ہوئے پوری طاقت سے ایک جھٹکا مارا۔۔۔ میر الن آپی کہ پھدی کے پردے کو پھاڑتا ہوا اندر داخل ہو گیا۔۔۔۔ آپی کے جسم نے ایک شدید جھٹکا کھایا اور بے ساختہ ہی ان کے ہاتھ کارپٹ سے اٹھے اور انہوں نے اپنے ناخن میری کمر میں گاڑھ دیے۔۔۔ آپی اس تکلیف اور اپنی پیچ کو روکنے میں تو کامیاب ہو گئی تھیں مگر شدید تکلیف کا احساس آپی کے چہرے پر واضح تھا۔۔۔ آپی نے اپنی آنکھیں مضبوطی سے بھینچ رکھی تھیں اور ان کے دونوں گال آنسوؤں سے تر ہو رہے تھے۔۔۔۔ میں نے آپی کے ہونٹ چھوڑے اور اپنے جسم کو ساکت رکھتے ہوئے آپی کے چہرے پر نظریں جمادیں۔۔۔ میر الن تقریباً چار انچ سے زیادہ ہی آپی کی پھدی کے اندر اتر چکا تھا۔۔۔ لیکن قریب دو انچ لن ابھی باہر تھا۔۔۔ میں آپی کے چہرے کا جائزہ لے رہا تھا جیسے ہی وہ تھوڑا پر سکون ہوئیں میں نے ایک اور جھٹکا مارا اور پورا لن جڑ تک پھدی میں اتار دیا۔۔۔۔ اوئی ماں ایسی۔۔۔ آپی کے منہ سے گھٹی گھٹی آواز

نکلی اور انہوں نے اپنا منہ اوپر اٹھاتے ہوئے ایک جھٹکے سے اپنے دانت میرے کندھے

میں گاڑھ دیے۔۔۔ آپی کے دانت میرے کندھے میں اور ان کے ناخن میری کمر میں

گڑھے ہوئے تھے۔۔۔ آپی کے ساتھ ساتھ تکلیف سے میرا بھی برا حال تھا۔ لیکن اس
تکلیف پر اس مزے کا احساس غالب تھا کہ آخر کار میرا پورا لن جڑ تک میری سنگی آپی کی پھدی میں ان کی اپنی مرضی سے موجود تھا۔۔۔ آپی کی پھدی اندر سے بہت گرم محسوس ہو رہی تھی یوں لگ رہا تھا جیسے میں نے اپنا لن تندور میں ڈالا ہوا ہو۔۔۔ کچھ لمحے ایسے ہی رکنے کے بعد آپی نے اپنے دانت اور ناخن میرے بدن سے ہٹا لیے۔۔۔ اور میں نے اپنا لن اندر باہر کرنا شروع کر دیا ۔۔۔ آپی کے منہ سے کر انہیں خارج ہونے لگیں۔۔۔ مگر ان کراہوں میں تکلیف کی بجائے مزے کا عنصر نمایاں تھا۔۔۔۔

میر الن جب باہر نکلتا تو آپی اپنا جسم ڈھیلا چھوڑ دیتیں اور جب میرا لن اندر جاتا تو آپی کے جسم میں معمولی سا تناؤ پیدا ہو جاتا۔ اور ان کا منہ تھوڑا سا کھلتا اور اس میں سے ایک آہ برآمد ہوتی اور آپی ساتھ ہی میری کمر سہلانے لگتیں۔۔۔۔۔ میں نے بارہ تیرہ دفعہ لن اندر باہر کیا اور پھر پورا لن جڑ تک اندر اتار کر شرارت سے آپی کو دیکھنے لگا۔۔۔۔ آپی نے اپنی آنکھیں کھول کر میری طرف دیکھا اور پھر سے آنکھیں بند کر کے اپنا بازو آنکھوں پر رکھ لیا۔۔۔ میں بولا کیا ہوا آپی اگر اچھا نہیں لگ رہا تو نکال لوں باہر ۔۔۔۔۔ آپی نے اپنی ٹانگیں اٹھا کر میری کمر پر قینچی کی مانند باندھ لیں اور بولیں ۔۔۔ اب نکال کر تو دیکھو ذرا۔۔۔ میں تمہاری بوٹی بوٹی نہیں نوچ لوں گی۔۔۔۔ یہ
کہہ کر آپی نے میری گردن میں ہاتھ ڈال کر مجھے اپنے اوپر کھینچا اور میرے ہونٹوں کو چوسنا شروع کر دیا۔ میں نے اپنے ہاتھوں سے آپی کے چہرے کو نرمی سے تھاما اور آہستہ رفتار سے اپنا لن اندر باہر کرنا شروع کر دیا۔۔۔۔

میں لگا تار دس منٹ تک لن آپی کی کی پھدی میں اندر باہر کرتا رہا اب آپی کو بھی مزہ آنا شروع ہو گیا تھا۔۔۔۔ میرے ہر دفعہ لن اندر کرنے پر ان کے منہ سے مزے کی آہ نکلتی اور جیسے ہی میں لن باہر کی طرف کھینچتا وہ میری کمر پر رکھے ہوئے ہاتھوں سے مجھے اپنی طرف دباتیں۔۔۔۔ آہ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ میرے پھدی پہلی دفعہ بھی میر ابھائی ہی مارے گا۔ آپی مزے سے سسکیاں لیتے ہوئے بولیں ۔۔۔۔ تو میں نے بھی جھٹکے مارتے ہوئے کہا۔۔۔ آہ۔ آہ۔ آپی میری تو ہمیشہ سے خواہش رہی تھی کہ میں آپ

کی پھدی ماروں اور آپ کی گانڈ کا افتتاح بھی میں ہی

کروں۔۔۔۔ ہاں۔۔۔ ہاں ۔۔۔ میری جان یہ سب کچھ تمہارا ہے۔۔۔ جب چاہو جیسے چا ہو جہاں چاہو لن ڈالو اب میں تمہیں منع نہیں کروں گی۔۔۔۔ اف ففف ف میرے

بھائی۔ اتنی لذت ۔۔۔۔ آہ۔۔۔۔ آہ۔۔۔ آہ۔۔ ساگررررر۔۔۔ میں نکلنے والی ہوں۔۔۔۔ مجھے بھی لگ رہا تھا کہ اب میں زیادہ ٹائم نہیں نکال پاؤں گا تو یہ سوچ کر جیسےہی میں نے لن باہر نکالا۔۔۔۔ آپی نے ایک دم میرے بالوں کو پکڑ کر جھنجھوڑا اور دانت پیتے ہوئے بولیں ۔۔۔ پہلے تمہیں پھدی میں ڈالنے کی جلدی تھی۔۔۔ اب درمیان میں رک جاتے ہو۔۔۔ چل جلدی دوبارہ ڈال اندر ۔۔۔ اور میں نے مسکراتے ہوئے دوبارہ

اپنا لن اندر ڈال دیا۔۔۔ اور ابھی پانچ سات گھسے ہی مار تھے کہ آپی کا جسم فل اکثر گیا۔۔۔ اور انہوں نے میرے سر کو پوری طاقت سے اپنے مموں میں دبا لیا۔ اور جھٹکے کھاتے ہوئے منی کی برسات کرنے لگیں۔۔۔۔ لگا تار دو منٹ تک آپی کو جھٹکے لگتے رہے۔۔۔۔ آپی ڈسچارج ہو چکی تھیں لیکن میں نے اپنے گھسوں کی رفتار اور بڑھادی اب میں بھی اپنا کنٹرول کھو چکا تھا۔۔۔ چند ہی گھسوں کے بعد میرا جسم بھی فل تناؤ میں آ گیا۔۔۔ اور میر الن اتنا سخت ہو گیا جیسے لوہا ہو۔۔۔ میرے پورے بدن سے لہریں سی

چلتی ہوئیں میرے لن کی طرف جانا شروع ہو گئیں۔۔۔ اور میرے منہ سے ایک تیز آہ

کے ساتھ آواز نکلی۔۔ آہ۔ آہ۔ آہ۔۔۔۔۔اوہ۔۔۔۔ میں گیا آپی۔۔۔ میں

گیا۔۔۔۔۔ اور میں نے ایک آخری جھٹکا اپنی پوری جان سے مارتے ہوئے لن کو جڑ تک اندر اتار دیا۔۔۔ اور پھر جیسے آتش فشاں پھٹ پڑا۔۔۔ میرے لن سے نکلتی ہوئی منی آپے کے جذبات کو ٹھنڈا کرنے لگی۔۔۔ آپی نے مجھے اپنے بازوؤں میں بھینچ لیا اور آہستہ سے میری کمر پر ہاتھ پھیرتی رہیں۔۔۔۔ جب میرے لن سے منی کا آخری قطرہ
بھی نکل گیا تو میں نڈھال ہو کر آپی کی بانہوں میں ہی لڑھک گیا۔۔۔۔ کچھ دیر بعد جب میرے حواس بحال ہوئے تو میں اٹھ بیٹھا اور آپی کو بھی اٹھایا۔۔۔۔ آپی اب بڑی محبت بھری نظروں سے مجھے دیکھ رہی تھیں۔۔۔۔ میں نے آگے ہو کر آپی کے ہونٹوں کو چوما اور بولا آپی اب گانڈ کب دو گی۔۔۔ تو آپی اپنے سر پر ہاتھ مار کر بولیں اپنی حالت دیکھو ساگر اگر دو منٹ اور پھدی مار لیتے تو شاید بیہوش ہی ہو جاتے اور جناب کو سوجھ رہی ہے گانڈ مارنے کی۔۔۔ چپ چاپ اٹھو اور نکلو یہاں سے اب ویسے بھی سب تھوڑی ہی دیر میں اٹھنے والے ہیں۔۔۔۔

ہم دونوں کارپٹ سے اٹھے تو آپی کی نظر نیچے پڑی تو وہاں خون اور منی کے دھبے دیکھ کر انہوں نے میرا کان پکڑ کر مروڑتے ہوئے کہا دیکھو نالائق کتنے ظالم ہو تم اپنی آپی پر کتنا ظلم کیا ہے۔۔۔

میں نے نیچے دیکھا اور بات کو سمجھتے ہوئے شرارت سے آپی کو بولا۔۔۔۔ میری جان سے پیاری بہنا۔ اب فکر مت کرو اگلی دفعہ خون بلکل نہیں نکلے گا صرف وہی چیز نکلے گی جس سے آپ کو مزہ آتا ہے۔۔۔۔

زیادہ بکو اس مت کرو اور
ﺍﯾﺴﯽ ﻟﮍﮐﯿﺎﮞ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﺟﻮ ﺧﻔﯿﮧ ﺗﻌﻠﻘﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺩﻟﭽﺴﭙﯽ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﮨﯿﮟ
ﺍﭘﻨﮯ ﺟﺴﻢ ﮐﯽ ﺁﮒ ﮐﻮ ﮨﺮ ﻃﺮﺡ ﺳﮯ ﭨﮭﻨﮉﺍ ﮐﺮﻭﺍﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﻣﮑﻤﻞ ﺭﺍﺯﺩﺍﺭﯼ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺗﻮ ﺑﻼ ﺟﺠﻬﮏ WhatsApp ﻣﯿﮟ ﺭﺍﺑﻄﮧ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﺭﺍﺯﺩﺍﺭﯼ ﮐﯽ ﮨﺮ ﻃﺮﺡ ﺳﮯ ﮔﺮﺍﻧﭩﯽ ﮨﮯ
ﺻﺮﻑ ﭘﯿﺎﺳﯽ ﻋﻮﺭﺗﯿﮟ
WhatsApp number 
+923215369690
are

Post a Comment

0 Comments

Comments