(ایک آپ بیتی) ۔۔۔
میری عمر ابھی بیس سال تھی کہ میری سوتیلی ماں نے میری شادی کر دی۔ وہ جیسی بھی تھی مگر میرے لیے اس نے اچھا ہی سوچا تھا۔ میرے شوہر انگلینڈ میں اپنی فیملی سمیت رہتے تھے سو میں بھی نکاح کے چھ ماہ کے بعد رخصت ہو کر یورک شائر انگلینڈ آگئی ۔
میں بنیادی طور پر ایک گھریلو عورت تھی مگر شوہر چاہتے اللّہ نے مجھے دو بچوں سے نواز دیا ۔
میری ساس گھر پہ ہی ہوتی تھیں اور بچوں کی دیکھ بھال بآسانی کر لیتی تھیں۔ بڑی بیٹی ہانیہ چار سال کی اور چھوٹی بیٹی شائنہ چھ ماہ کی ہوئی تھی۔ انہی دنوں میری ساس کی طبیعت خراب رہنے لگی۔ مگر وہ ظاہر نہ ہونے دیتی تھیں۔
اکثر ہانیہ شکایت کرتی کہ دادو کمرے میں کسی سے بات کرتی ہیں۔۔۔ میں اس کو چپ کروا دیتی کہ فون پہ بات کر رہی ہوں گی ۔۔۔
وقت گزرتا گیا اور میری چھوٹی بیٹی دوسال کی ہو گئی ۔۔۔ ان دنوں ساس بے حد بیمار ہو گئیں حتی کہ وہ کسی سے بات کرنا بھی چھوڑ گئیں ۔ ۔۔۔
میں اس صورتحال سے کافی پریشان تھی۔ ڈاکٹرز نے انکو ہسپتال میں داخل کر لیا۔ ۔۔ میں نے سکول سے چھٹیاں لے لیں اور گھر اور بچوں کے ساتھ ساس کا بھی خیال رکھنے لگی مگر وہ نہ بچ سکیں اور ایک شام خاموشی سے اس دنیا کو چھوڑ گئیں ۔ ۔۔۔
مرنے سے ایک دن پہلے انہوں نے مجھے پاس بلایا اور اشارے سے قریب آنے کو کہا۔ میں نے ان کے منہ کے قریب جا کر سنا تو بولیں۔۔۔ " یہاں سے چلے جاؤ ۔۔۔ یہاں مت رہنا۔۔۔!!"
ان کی آواز میں نہ جانے کیا تھا کہ میں لرز کر رہ گئی ۔ ۔۔ شوہر سے ذکر کیا تو بولے " ہسپتال سے جانے کا کہتی ہوں گی۔۔۔ "
ان کو ہسپتال اور دواؤں سے بہت الرجی تھی اس لیے میں بھی یہی سمجھ بیٹھی مگر میں نہیں جانتی تھی کہ وہ ہم سے کیا کہنا چاہتی تھیں ۔ اگلے دن ان کی موت سے ہمارا گھر کا گھر افسردہ ہو گیا۔۔۔
ایک ماہ ان کو پاکستان لانے اور تدفین وغیرہ میں لگ گیا۔۔
واپس گھر پہنچی تو نوکری کی فکر ہوئی ۔۔۔ شوہر سے بات کی کہ نوکری چھوڑ دی جائے تو وہ بولے اب بچے بڑے ہو رہے ہیں اسکول میں تم ہو گی تو ان کی فکر نہیں ہو گی۔ ۔۔۔
میں بھی سوچ میں پڑ گئی ۔۔ ہانیہ تو میرے ساتھ ہی اسکول جاتی تھی مگر شائنہ ابھی چھوٹی تھی اس کے لیے ڈے کیئر کا انتظام بھی نہیں کیا تھا۔۔۔ پڑوسن ایک اچھی عورت تھی اس کے پاس چھوڑ کر میں پہلے دن اسکول گئی ۔۔۔ طویل غیر حاضری کے بعد کام کا لوڈ تھا ۔۔ آتے آتے شام کے چار بج گئے۔۔۔
بھاگم بھاگ بڑی بیٹی کو لیے پڑوسن کے پاس آئی دیکھا تو شائنہ سو رہی تھی۔۔ بہت شکریہ ادا کیا ۔۔۔۔ پڑوسن نے چائے پہ روک لیا۔۔۔ چائے کی طلب بھی تھی ۔۔۔ سو میں بیٹھ گئی۔۔
اس کا نام سارہ تھا اور وہ بھی مسلم تھی ۔۔
اس کے دو بیٹے تھے جو اسکول جاتے تھے۔۔۔
سارہ نے بےبی سٹر کی تجویز دی۔
وہ کمپنی کو جانتی تھی جہاں سے بےبی سٹر کی خدمات حاصل کی جا سکتی تھیں ۔۔۔
اندھا کیا چاہے دو آنکھیں۔۔۔ میں نے فوراً رابطہ نمبر لیا۔۔۔
سارہ نے مجھے بتایا کہ کمپنی میں ایک مسلم لڑکی بھی کام کرتی تھی۔ جس کا نام عالیہ تھا۔۔ اسی کو بلانے کا کہا کیونکہ سارہ بھی ضرورت کے وقت اسی کو بلاتی تھی۔ ۔۔۔
میں نے کمپنی کو فون کیا اور عالیہ کو بھیجنے کا کہا۔۔۔ کمپنی نے شام آٹھ بجے کا وقت دیا۔۔۔
میں بےچینی سے اس کا انتظار کرنے لگی ۔۔۔
ٹھیک آٹھ بجے عالیہ آگئی ۔۔۔ وہ ایک سلجھی ہوئی لڑکی تھی عمر بائیس سال کے لگ بھگ تھی ۔ ۔۔۔ وہ اپنا اور اپنی ماں کا پیٹ بھرنے کے لیے نوکری کر رہی تھی۔۔۔ عالیہ کا سارا بائیو ڈیٹا کمپنی نے بھیج دیا تھا۔۔۔
مجھے بھی وہ ایک مخلص لڑکی لگی اور میں نے اسے نوکری پہ رکھ لیا جب اسے معلوم ہوا کہ میں اسے مستقل طور پر رکھ رہی ہوں تو وہ بے حد خوش ہوئی اور اگلے دن صبح آٹھ بجے آنے کا وعدہ کرلیا ۔۔۔۔
اگلے دن صبح وہ ٹھیک آٹھ بجے گھر آگئی ۔۔۔ شائنہ اسے دیکھ کر بہت خوش ہو گئی وہ گھر سے جانا نہیں چاہتی تھی ۔۔۔۔ اب ایک کھیلنے والا انسان اسے مل رہا تھا۔۔۔ وہ جلد ہی دوست بن گئیں ۔۔۔
میں اور میرے شوہر بہت مطمئن ہو گئے اور اپنے اپنے کام پہ چلے گئے ۔۔۔
شائنہ ایک خوش مزاج بچی تھی وہ دو سال کی ہو گئی تھی اور بہت باتیں کرنے لگی تھی ۔۔
پورے گھر میں بھاگتی دوڑتی پھرتی ۔۔۔۔
ہانیہ اسکول سے آجاتی تو دونوں مل کر بہت اودھم مچاتی تھیں۔ ۔۔۔۔
دیکھتے ہی دیکھتے ایک ماہ گزر گیا اور عالیہ نے میرا بھروسہ جیت لیا۔۔۔
وہ ایک اچھی اور مخلص لڑکی تھی۔۔۔ کچھ دنوں سے میں دیکھ رہی تھی کہ وہ مجھ سے کچھ کہنا چاہتی تھی۔۔ کئی بار وہ کچھ کہنا شروع کرتی مگر بات کو چھوڑ دیتی ۔۔۔ اور خدا حافظ کہہ کر نکل جاتی۔۔۔
میں نے سوچا شاید اس کی ماں ٹھیک نہیں تو چھٹی لینا چاہتی ہو گی۔۔۔
یہ سوچ کر میں نے اگلے دن اسے چائے پہ روک لیا۔۔ وہ کپ ہاتھوں میں لیے گم صم سی بیٹھی تھی۔۔۔۔ میں نے خود ہی اس سے پوچھا کہ سب خیریت ہے ۔۔۔ وہ مسکرائی اور ہاں میں سر ہلایا ۔۔۔
میں نے اس کے ہاتھ پہ ہاتھ رکھا اور اسے یقین دلایا کہ وہ مجھ سے کوئی بھی بات کر سکتی ہے۔۔
وہ چپ چاپ مجھے دیکھنے لگی۔۔۔ اس کی آنکھوں میں ایک الجھن سی تھی ۔۔۔۔ وہ بولی ۔۔" اوپر دائیں کمرے میں کون رہتا ہے؟.."
میں ایک دم حیران سی ہو گئی ۔۔۔
" وہاں میری ساس رہتی تھیں ۔۔۔" میں نے کہا۔
کیا بات ہے بولو؟
" کچھ نہیں بےبی وہاں چلی جاتی ہے اور باتیں کرتی ہے۔۔۔ " اس نے بتایا۔۔۔
میں سوچ میں پڑ گئی ۔۔۔۔ وہ اجازت لے کر چلی گئی ۔۔۔۔
رات کو شوہر سے یہ بات کی تو بولے " تم بھی کیا فضول باتیں سوچنے لگیں۔۔۔ شائنہ امی سے بہت قریب تھی ان کی تصویر سے باتیں کرتی ہو گی۔۔۔"
مجھے بھی سن کر سکون سا ہو گیا۔۔۔ واقعی ایسا ہی تھا۔۔۔ اماں اس سے بہت لاڈ کرتی تھیں۔۔۔
اگلے دن میں نے عالیہ کو بھی سمجھا دیا وہ بھی مطمئن ہو گئی ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس شام ہماری شادی کی سالگرہ تھی۔ شوہر بہت خوشگوار موڈ میں تھے انہوں نے ایک فلم دیکھنے کا پلان بنا رکھا تھا اور کھانا بھی باہر ہی کھانے والے تھے۔۔۔
میں نے عالیہ سے بات کر لی کہ وہ رات گیارہ بجے تک بچوں کے پاس ہی رک جائے ہماری کوشش تھی کہ ہم جلد گھر آجائیں گے ۔۔۔۔
وقت مقررہ پہ عالیہ گھر آگئی شام کے چھ بجے تھے۔۔بچیاں ٹی وی پہ کارٹون دیکھ رہی تھیں۔۔۔
میں نے عالیہ کو سب اوقات سمجھا دیئے کہ بچیوں کو آٹھ بجے سونے کے لیے اوپر ان کے کمرے میں لے جائے اور کھانا وہ کھا چکی ہیں ۔۔۔
عالیہ کے لیے فریج میں کھانا موجود تھا جو وہ کھا لے۔۔۔۔ ایمرجنسی کے طور پہ وہ مجھے یا میرے شوہر کو فون کر سکتی تھی ۔۔۔
مگر میں نہیں جانتی تھی کہ میں اس کی زندگی کو داؤ پہ لگا کر جا رہی تھی۔۔۔۔
ہمارے جانے کے بعد عالیہ نے دروازے بند کر دیئے اور تمام کھڑکیاں بھی چیک کر لیں۔ باقی کے واقعات عالیہ نے مجھے بتائے ۔۔۔اسی کی زبانی سنیے ۔۔۔
مسٹر اور مسز احمد کے جانے کے بعد میں بچیوں کے پاس آگئی ان کا کھیلنے کا موڈ تھا چناچہ میں ان کے ساتھ رہی۔ ۔۔ ٹھیک آٹھ بجے میں نے ان کو دودھ کا گلاس دینے کے بعد سونے کے لیے اوپر ان کے کمرے میں لے گئی ۔۔۔۔
اوپر کی منزل پہ تین بیڈ روم تھے۔ دائیں جانب پہلا کمرہ مسز احمد کی ساس یعنی ہانیہ کی دادی اماں کا تھا دوسرا ماسٹر بیڈ روم تھا جو والدین کے استعمال میں تھا دوسری جانب بچیوں کا کمرہ تھا۔ ان کمروں میں اٹیچ باتھ بھی تھے۔۔ بچیوں کا کمرہ خاصا کھلا تھا۔ ایک طرف دونوں کے بیڈ لگے تھے اس کے سامنے بچیوں کے کپڑوں کی الماری تھی۔ سامنے کے حصے میں قالین بچھا کر کھلونوں کے ریک اور ایک چھوٹا سا خیمہ لگا تھا۔۔ یہ کھیلنے کی جگہ تھی۔۔ بچیاں خیمے میں بہت خوشی سے کھیلتی تھیں۔ اس میں ٹارچ لائٹ اور کچھ کھلونے تھے نیچے ایک نرم گدا بچھا ہوا تھا ۔۔۔۔
بچیوں کے بستر ٹھیک کرنے اور ان کو برش کروانے کے بعد ان کے بستر پر لٹا دیا ۔۔۔
ہانیہ کا سونے کا ارادہ نہیں تھا بلکہ وہ کہانی سننا چاہتی تھی۔۔۔۔
میں نے ایک کہانیوں کی کتاب کھلونوں کے ریک سے نکالی جو ہانیہ کی پسندیدہ تھی اور اس میں سے کہانی سنانے لگی۔ اس دوران میں شائنہ سو گئی تھی ۔ ۔۔ ہانیہ کو شب بخیر کہہ کر میں نے دروازہ بند کیا اور نیچے آگئی۔ گھڑی کی سوئیاں نو بجا رہی تھیں۔ ۔۔۔
مجھے کچھ بھوک لگ گئی تھی میں نے فریج میں جھانکا تو پاستہ اور ایک پزا موجود تھا۔۔
میں نے پزا کے دو سلائس کاٹے اور گرم کرنے اوون میں رکھ دیے۔۔۔
گھر میں ایک عجیب سی خاموشی تھی ۔ ۔۔ مجھے گھبراہٹ سی ہونے لگی تو ماں کو فون ملایا۔۔۔
ان سے بات کر کے کافی سکون محسوس ہوا۔۔ ان سے اپنی گھبراہٹ کا ذکر کیا تو وہ بولیں ۔۔" اکثر نئی جگہ پہ ایسا ہوتا ہے دن میں جہاں کوئی الجھن نہیں ہوتی وہاں رات میں عجیب سی اجنبیت محسوس ہوتی ہے ۔۔ تم پریشان نہ ہو۔۔ دو گھنٹے میں گھر والے آجائیں گے تو تم آجانا۔۔۔ میں تمہارے انتظار میں جاگ رہی ہوں ۔۔"
یہ بات سن کر مجھے بھی حوصلہ ہوا۔ واقعی میں خوامخواہ گھبرا رہی تھی ۔۔۔ فون بند کر کے میں وہیں کھڑی سوچ رہی تھی کہ اچانک اوون کی بیپ ہوئی اور میں اچھل پڑی ۔۔۔
" اوہو ۔۔۔ مجھے کیا ہو گیا ہے ؟ " میں نے خود کلامی کی اور اوون سے پزا نکال کر فریج سے ایک سوڈا کین لے کر لاونج میں آگئی۔۔۔
ٹی وی لگانے کے لیے جب ریموٹ کے لیے نظر دوڑائی تو وہ کہیں نظر نہ آیا۔۔۔
میں نے صوفہ ۔ کشن ۔ میز کے نیچے ہر جگہ تلاش کیا مگر اسے نہ ملنا تھا نہ ملا ۔۔۔
تھک کر میں صوفے پہ بیٹھ گئی اور پزا کھانے لگی۔ ۔۔
ابھی میں نے دو تین نوالے ہی کھائے ہوں گے کہ مجھے ہنسنے کی آواز سنائی دی ۔ ۔۔
میں نے پلیٹ میز پر رکھ کر سیڑھیوں کے پاس آکر کان لگائے ۔۔۔
اسی وقت دوبارہ ہنسی کی آواز سنائی دی ۔۔۔
" یہ دونوں ابھی سوئی نہیں ہیں" میں دل میں کہتی اوپر آگئی ۔۔۔ کمرے کا دروازہ کھلا تھا جبکہ مجھے یاد پڑتا تھا کہ میں اسے بند کر کے گئی تھی ۔۔ میں نے آہستہ سے دروازہ کھولا۔۔۔
کمرے میں نائٹ لیمپ کی نیلی روشنی پھیلی ہوئی تھی ۔۔
چھوٹی بیٹی شائنہ اپنے بستر پر بےخبر سو رہی تھی لیکن ہانیہ کا بستر خالی تھا۔۔۔
میں نے نظر گھمائی تو خیمہ میں روشنی نظر آئی ساتھ ہی بچی کا سایہ بھی تھا ۔۔۔
میں خیمہ کی طرف گئی اور نیچے بیٹھ کر اسے کھولنے لگی۔۔۔
ہانیہ۔۔۔" ساتھ ہی میں نے دھیرے سے کہا ۔۔
" آپی... میں یہاں ہوں۔۔" مجھے اپنے پیچھے سے آواز آئی میں نے بیٹھے بیٹھے گردن گھما کر دیکھا تو ہانیہ بیڈ کے نیچے تھی ۔۔۔ اس نے اشارہ کیا کہ وہ خیمہ میں نہیں ہے۔۔۔
میرا دماغ چکرا کر رہ گیا میں نے آگے بڑھ کر خیمہ کھول دیا اس میں کوئی نہ تھا ۔۔۔ ٹارچ جل رہی تھی ۔۔۔۔
میں گھبرا کر اٹھ کھڑی ہوئی ۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا ۔۔۔ میں نے شائنہ کو سوئے ہوئے ہی گود میں اٹھایا اور ہانیہ کا ہاتھ پکڑ کر نیچے اترتی چلی گئی ۔۔۔
مگر ہانیہ نے ہاتھ چھڑا کر واپس اوپر کی طرف جانا چاہا ۔۔
میں نے اسے رکنے کو کہا۔۔۔ شائنہ کو صوفے پہ لٹا کر میں نے اسے بلایا۔۔۔
" میں واپس جا رہی ہوں ۔۔۔ سونے کے لیے۔۔ " اس نے کہا اور سیڑھیاں چڑھنے لگی ۔۔۔
" وہ لارا تھی میری فرینڈ ۔۔۔ امیجنری فرینڈ۔۔
اس نے کہا تو میں سناٹے میں رہ گئی ۔۔۔
" تم بستر کے نیچے کیوں تھیں؟ " میں نے پریشانی سے پوچھا۔۔۔
اس کی ماما آگئی تھی ۔۔۔ وہ مجھے اچھی نہیں لگتی ۔۔۔ ڈراتی ہیں۔۔۔ " وہ نارمل انداز میں بتا رہی تھی۔۔۔
میرا دماغ چکرا رہا تھا ۔۔۔ خیمہ میں ضرور کوئی تھا ۔۔۔ کون تھا وہ یا میرا وہم تھا۔۔۔
مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی ۔۔۔
اس دوران ہانیہ اوپر چلی گئی اور میں ساکت بیٹھی چھوٹی کو دیکھتی رہ گئی ۔۔۔
جو کچھ بھی تھا اس کا واسطہ اوپر کی منزل سے تھا۔۔۔ میرا وہم تھا یا حقیقت ؟؟
ہانیہ کو نیچے لے آتی ہوں جب تک ان کے والدین نہیں آجاتے ۔۔۔
یہ سوچ کر میں ایک نظر سوئی ہوئی شائنہ پہ ڈال کر اوپر جانے لگی۔۔۔
راہداری روشن تھی... دائیں جانب کے کمرے کا دروازہ کھلا تھا یہ وہی کمرہ تھا جہاں احمد صاحب کی والدہ رہتی تھیں ۔۔۔
یہ کمرہ اس دن سے ہمیشہ مقفل کیا جاتا تھا جب سے چھوٹی بیٹی شائنہ وہاں باتیں کرنے لگی تھی ۔۔۔
یہ دروازہ کیوں کھول دیا ہانیہ نے۔۔۔ یہ سوچتی میں کمرے کے پاس آگئی ۔۔۔
" ہانیہ۔۔۔ کہاں ہو آپ؟ " میں نے آواز دی ساتھ ہی دروازہ کھولا ۔۔۔
کمرے میں اندھیرا تھا۔۔۔ میں نے لائٹ کا بٹن تلاش کیا بٹن دباتے ہوئے میں نے الماری میں آہٹ سنی ۔۔۔
کمرہ خالی تھا۔۔۔ کمرے کے وسط میں بیڈ بچھا تھا اس کے سامنے والی دیوار میں ایک بڑی کھڑکی تھی۔۔ بیڈ کے دوسری طرف ایک دیوارگیر الماری تھی۔۔۔
آہٹ وہیں سے سنائی دی تھی ۔ میں پریشانی سے الماری کی طرف گئی۔۔۔
ہانیہ۔۔۔ آپ یہاں ہو؟ " میں نے اس کے ہینڈل کو چھوا۔۔ اسی وقت میرے پاؤں پر کسی نے ہاتھ رکھا۔ ہانیہ ہمیشہ بیڈ کے نیچے چھپ کے کھیلتی تھی۔۔۔
میں نے دیکھے بنا کہا " یہ کھیلنے کا وقت نہیں ہے ۔۔ " اسی دم پیچھے سے آواز آئی ۔۔
" آپی ۔۔ میں یہاں ہوں" میں نے جھٹکے سے مڑ کر دیکھا تو ہانیہ دروازے میں کھڑی تھی۔۔۔
تو یہ ہاتھ کس کا تھا۔۔؟؟ میں نے نیچے دیکھا تو ایک سفید سا بازو نظر آیا اور میرے حلق سے چیخ نکل گئی ۔۔۔۔
میں بری طرح دوڑتی ہوئی نیچے آگئی ہانیہ میرے ساتھ تھی۔۔۔
میں اس گھر میں نہیں رہ سکتی ۔۔۔ مجھے جانا ہوگا۔۔۔ چلو بچو ۔۔۔ ہمیں جانا ہوگا۔۔۔ ابھی۔۔" میں نے ہانیہ سے کہا اور شائنہ کو اٹھانا چاہا مگر صوفہ خالی تھا۔۔۔ شائنہ وہاں نہیں تھی۔۔۔
شائنہ کے غایب ہو جانے سے میری حالت غیر ہو گئی۔۔۔ میں چیخ چیخ کراسے آوازیں دینے لگی ۔۔۔
ہانیہ بھی ڈر گئی تھی مجھے کوئی جواب نہ ملا تو میں صوفے پہ گر کر رونے لگی میرا ذہن ماؤف ہو گیا تھا۔ ہانیہ مجھ سے لگ کر رونے لگی ۔۔۔ اسے روتا دیکھ کر میں نے خود کو سنبھالا ۔۔۔
مجھے ہمت کرنی ہوگی۔۔ ایسے کچھ نہیں ہوسکتا تھا۔ میں ان بچوں کی نگران تھی۔ میں انہیں کچھ نہیں ہونے دے سکتی تھی۔۔۔
چاہے کچھ بھی ہو جائے مجھے بچیوں کی حفاظت کرنی ہو گی۔۔۔ میں نے آنسو پونچھ ڈالے۔۔۔
ہانیہ کو ساتھ لپٹا لیا اس کو تسلی دی اور کہا کہ" ہمیں شائنہ کو ڈھونڈنا ہے ہم اسے پورے گھر میں تلاش کریں گے۔۔۔
وہ کہیں نہیں جا سکتی ۔۔۔ وہ یہیں ہو گی اسی گھر میں ۔۔۔ "
یہ سب سمجھانے کے بعد ہم نے شائنہ کو ڈھونڈنا شروع کر دیا نیچے ڈرائنگ روم اور ٹی وی لاونج کے علاوہ ایک اسٹڈی روم بھی تھا۔
میں وہاں گئی ہانیہ بھی میرے پیچھے پیچھے تھی ۔۔۔
پورا کمرہ خالی تھا وہاں کوئی نہ تھا ۔۔ میں نے شائنہ کو آواز دی مگر کوئی جواب نہ ملا۔۔۔
ہانیہ باہر نکل گئی میں اس کے پیچھے ہی باہر آگئی تھی ۔۔۔
میں نے سوچا فون کروں اور مسز احمد کو یہ سب بتاؤں ۔۔ مگر وہ میری بات کا یقین نہ کرتیں اور شائنہ کا خیال نہ رکھنے کے لیے الٹا مجھے سرزنش کرتیں۔۔۔ میں نے شائنہ کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا ۔۔۔
وہ کہاں جاسکتی ہے؟ ۔۔۔ کہیں اپنی دادی اماں کے کمرے میں تو نہیں چلی گئی۔۔۔
یہ خیال آتے ہی میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگا ۔۔۔۔ اس کمرے میں ہی وہ ہاتھ دکھائی دیا تھا۔۔۔۔ مگر بچی کو اگر کچھ ہو جاتا تو میں اپنے آپ کو زندگی بھر معاف نہ کرتی۔۔۔
میں سیڑھیوں کے قریب آئی اسی وقت مجھے رونے کی آواز سنائی دی ۔۔۔ آواز اوپر سے ہی آرہی تھی ۔۔
شائنہ ۔۔۔۔ وہ اوپر تھی۔۔۔۔ میں سیڑھیاں چڑھ کر اوپر جانے لگی ۔۔۔۔ ہانیہ مجھے روکنا چاہتی تھی۔۔۔
مگر میں نے اسے وہیں رکنے کا کہا اور خود اوپر چڑھنے لگی۔۔۔۔ راہداری بالکل سنسان پڑی تھی ۔۔۔ میں وہیں کھڑی سننے کی کوشش کر رہی تھی کہ آواز کہاں سے آئی تھی۔۔۔؟
اسی وقت میں نے دوبارہ رونے کی آواز سنی ۔۔۔ آواز بالکل مدھم سی تھی۔۔۔ میں آہستہ آہستہ قدموں سے چلتی ہوئی کمرے کے قریب آئی ۔۔۔ وہی خوفناک کمرہ ۔۔۔
میں نے دروازے سے کان لگایا۔۔۔ آواز اندر سے آرہی تھی۔۔۔ میں نے جلدی سے ہنڈل گھمایا مگر وہ نہ گھوما ۔۔۔ دروازہ لاک تھا۔۔۔
میرا سر بھاری ہونے لگا۔۔۔ یہ دروازہ کھلا تھا جب میں اور ہانیہ نیچے بھاگے تھے۔۔۔
مگر اب یہ لاک تھا اور چھوٹی بیٹی شائنہ اندر تھی۔ اسے کھولنا ہو گا۔۔۔ میں نے زور زور سے دروازہ دھڑدھڑایا مگر وہ نہ کھلا ۔۔۔ رونے کی آواز بند ہو گئی تھی ۔۔۔ میں نے چابی کی تلاش میں ادھر ادھر دیکھا ۔۔۔اسی وقت راہداری کے آخری حصّہ میں مجھے وہ خطرناک روح نظر آئی جو شاید لارا کی ماں تھی ۔۔۔
اس منظر کی یاد مجھے عمر بھر دہلاتی رہے گی۔۔۔۔ وہ ایک عورت تھی مگر اس کا چہرہ بگڑا ہوا تھا ۔۔۔ آنکھیں بالکل سفید اور لباس مٹیالا جس پہ خون کے دھبے سیاہ ہو چکے تھے ۔۔۔ اس نے مجھے دیکھا۔۔۔۔
اور خوف سے میری حالت غیر ہونے لگی۔۔۔۔۔
وہ زمین پہ نہیں تھی بلکہ چھت سے لگی تھی اس کے پاؤں ہوا میں تھے۔۔۔۔
اسی وقت ہانیہ بھی اوپر آگئی ۔۔۔۔
اس نے ایک فلک شگاف چیخ ماری اور میرا دل جیسے دھڑکنا بھول گیا ۔۔۔۔ میری آنکھوں کے سامنے اچانک اس کمرے کا دروازہ کھلا اور ہانیہ ایک جھٹکے سے اس میں چلی گئی ۔۔۔ دروازہ دوبارہ بند ہوگیا ۔۔۔
" نہیں ۔۔۔۔ تم ایسا نہیں کرسکتی ۔۔۔۔" میری چیخ گلے میں گھٹ کر رہ گئی ۔۔۔
میں دروازے کی طرف بھاگی ۔۔۔اسی وقت وہ میرے کان کے قریب چلائی ۔۔۔۔" لیو اس الون۔۔۔۔" ہمیں اکیلا چھوڑ دو ۔۔۔۔ وہ تو میرے پیچھے کھڑی تھی ۔۔۔ مجھے ایک زور دار جھٹکا لگا اور میں ہوا میں اڑ کر سیڑھیوں سے ٹکرائی اور لڑھکتی ہوئی سیڑھیوں سے نیچے جا گری ۔۔۔ میرا سر ریلنگ سے ٹکرایا ۔۔۔۔ اور آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔۔۔ بے ہوش ہونے سے پہلے آخری آواز جو میں نے سنی وہ ہانیہ کی چیخ کی آواز تھی ۔۔۔ اس کے بعد مجھے کچھ ہوش نہ رہا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
یہاں تک کے واقعات عالیہ نے مجھے سنائے۔۔۔
ہم جب کھانے کے بعد گھر پہنچے تو گاڑی سے نکلتے ہی ہمیں ہانیہ کی چیخیں سنائی دیں ۔۔
میں اور میرے شوہر گاڑی بند کرنا بھول کر گھر کے اندر بھاگے دیکھا تو عالیہ سیڑھیوں کے نیچے بے ہوش پڑی تھی اور اس کے ماتھے سے خون بہہ رہا تھا۔۔۔
ہانیہ اور شائنہ اوپر چلا رہی تھیں ساتھ ہی دروزہ پیٹنے کی آوازیں بھی آرہی تھیں۔۔۔
ہمیں کچھ سمجھ نہیں آیا کہ یہ کیا ہوا تھا۔۔۔
عالیہ کی حالت کافی خراب تھی۔۔۔ میرے شوہر نے ایمبولینس کو فون کیا اور میں اوپر بھاگی۔۔۔
اوپر پہنچی تو دیکھا کہ میری ساس کے کمرے سے بچوں کی آوازیں آرہی تھیں میں نے ہینڈل گھمایا تو دروازہ کھل گیا۔۔۔ اندر دونوں بچیاں بند تھیں رو رو کر برا حال تھا ۔۔۔
ہانیہ کے بائیں گال پہ نیل پڑا تھا اور ہونٹ بھی پھٹا ہوا تھا۔۔۔ اس نے مجھے دیکھا تو روتی ہوئی مجھ سے لپٹ گئی ۔۔۔ شائنہ زمین پہ لیٹی تھی اس کے ہاتھ میں ایک ڈائری تھی۔۔۔
میں نے اسے گود میں لیا اور نیچے آگئی ۔۔۔
عالیہ کے لیے ایمبولینس آگئی تھی ۔۔۔ وہ ابھی تک بےہوش ہی تھی۔۔۔ ہانیہ اسے دیکھ کر آپی ۔۔۔ آپی ۔۔۔ چلانے لگی۔۔۔ آپی کو کیا ہوا؟ "
وہ مجھ سے پوچھ رہی تھی۔۔۔
میری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا ۔۔۔
ہم سب ہسپتال چلے گئے ۔۔۔ عالیہ کی والدہ کو اطلاع دے دی گئی تھی وہ بھی وہاں آگئی تھیں ۔۔۔
ڈاکٹروں نے بتایا کہ عالیہ کو گہری چوٹیں نہیں ہیں وہ جلد ٹھیک ہو جائے گی ۔۔۔ اور ہانیہ کو بھی دوا دی۔۔۔ ہانیہ نے مجھے بتایا کہ دادی اماں اسے کمرے میں لے گئی تھیں اور شائنہ کو بھی ۔۔۔
ہم نے وہاں یہی کہا کہ دونوں سیڑھیوں سے گر گئی تھیں ۔۔۔ شائنہ کے پاس جو ڈائری تھی وہ میری ساس مرحومہ کی تھی ۔۔۔
اس کو پڑھا تو معلوم ہوا کہ اس گھر میں کئی سال پہلے ایک ماں بیٹی کو قتل کر دیا گیا تھا۔۔۔۔ پولیس کو قاتل کا سراغ نہ مل سکا تھا بعد میں معلوم ہوا کہ باپ ہی ان دونوں کا قاتل تھا۔۔۔ ان کی روح اب تک وہیں تھی ۔ وہ وہاں کسی کو اباد نہیں دیکھ سکتی تھیں۔۔۔
میری ساس نےایک روحانی عمل کے ذریعے ان کو اپنے کمرے تک محدود رکھا تھا مگر ان کی وفات کے بعد وہ بچیوں پہ حاوی ہونے لگی تھیں ۔۔۔ دوسرے روز عالیہ نے جب یہ سب واقعات سنائے تو مجھے اپنی ساس کی بات یاد آئی کہ " یہاں سے چلے جانا ۔۔ یہاں مت رکنا۔۔۔"
عالیہ نے جو کیا میں اس کا بدلہ نہیں دے سکتی تھی اس نے اپنی جان کو خطرہ میں ڈالا تھا۔۔۔
ہم نے اسی ہفتہ مکان بدل لیا ۔۔۔ اس عرصہ بھی میں بچوں کے ساتھ ایک ملنے والوں کے گھر رہی۔۔۔۔۔
میری بچیاں اور عالیہ آج بھی بہت اچھے دوست ہیں اور عالیہ اور اس کی والدہ ہمارے گھر کے فرد کی طرح ہیں۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔ ختم شد ۔۔۔۔۔۔
ﺍﯾﺴﯽ ﻟﮍﮐﯿﺎﮞ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﺟﻮ ﺧﻔﯿﮧ ﺗﻌﻠﻘﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺩﻟﭽﺴﭙﯽ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﮨﯿﮟ
ﺍﭘﻨﮯ ﺟﺴﻢ ﮐﯽ ﺁﮒ ﮐﻮ ﮨﺮ ﻃﺮﺡ ﺳﮯ ﭨﮭﻨﮉﺍ ﮐﺮﻭﺍﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﻣﮑﻤﻞ ﺭﺍﺯﺩﺍﺭﯼ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺗﻮ ﺑﻼ ﺟﺠﻬﮏ WhatsApp ﻣﯿﮟ ﺭﺍﺑﻄﮧ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﺭﺍﺯﺩﺍﺭﯼ ﮐﯽ ﮨﺮ ﻃﺮﺡ ﺳﮯ ﮔﺮﺍﻧﭩﯽ ﮨﮯ
ﺻﺮﻑ ﭘﯿﺎﺳﯽ ﻋﻮﺭﺗﯿﮟ
WhatsApp number
+923215369690
0 Comments